کیپ ٹاؤن ٹیسٹ؛ اظہر علی اور اسد شفیق کو پھر آزمانے کا فیصلہ

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں اظہر علی اور اسد شفیق کے ناتواں کندھوں پر ایک بار پھر توقعات کا بوجھ لادنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ناقص کارکردگی کے باوجود ایک اور موقع دیا جائے گا، محمد عباس کی جگہ بنانے کیلیے بولرز میں سے کسی ایک کو ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا، ورنون فلینڈر کی واپسی پر کس کو بٹھایا جائے؟ جنوبی افریقی ٹیم مینجمنٹ بھی سوچ بچار میں پڑ گئی۔ دوسرے معرکے کی تیاری کیلیے مہمان ٹیم کی بھرپور مشقوں کا سلسلہ جاری رہا، نیو لینڈز اسٹیڈیم میں ٹاپ آرڈرکوچزکی بھرپور توجہ کا مرکز بنی، پیسرز نے اپنی لائن اور لینتھ پر کام کیا، سلپ کیچز کی پریکٹس بھی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سنچورین ٹیسٹ میں اظہر علی اور اسد شفیق کی کارکردگی مایوس کن رہی، دلبرداشتہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی جانب سے ٹیم میٹنگ میں سینئرز پر برہمی اور کیپ ٹاؤن میں بڑی تبدیلیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ناقص کارکردگی کے باوجود دونوں سینئرزکوایک اور موقع دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

اسد شفیق نے2013 میں کیپ ٹاؤن میں سنچری بنائی تھی، مینجمنٹ کوامید ہے کہ سینئرز اس بار توقعات کا بوجھ اٹھانے میں کامیاب ہوجائیں گے،گھٹنے کی انجری کا شکارحارث سہیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے سنچورین ٹیسٹ میں شان مسعود کوموقع ملا، نوجوان بیٹسمین نے دوسری اننگز میں مشکل صورتحال میں 65 رنز بنائے، عام طور پر بطور اوپنرکھیلنے والے شان مسعود تیسرے نمبر پر بیٹنگ کیلیے آئے تھے، فخرزمان دونوں اننگز میں پراعتماد نظر نہیں آئے، حارث سہیل کی جگہ بنانے کیلیے ان کو ڈراپ کرنے کا آپشن موجود تھا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ جارح مزاج اوپنر کو بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، یوں بیٹنگ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کندھے کی انجری سے مکمل طور پر نجات نہ پانے کی وجہ سے محمد عباس سنچورین ٹیسٹ میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔

تاہم بعدازاں پریس کانفرنس میں سرفرازاحمد نے ان کی فٹنس بحال ہونے کی نوید سنائی، گزشتہ سال شاندار کارکردگی پیش کرنے والے پیسر کی جمعرات سے شروع ہونے والے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کیلیے پلیئنگ الیون میں واپسی یقینی ہے، دوسری جانب ناتجربہ کار ہونے کے باوجود شاہین شاہ آفریدی نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 4وکٹیں حاصل کی تھیں، متاثر کن کارکردگی کے بعد ان کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ بھی آسان نہیں ہوگا، اگر 4پیسرز کو کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تویاسر شاہ کوباہر بٹھانا پڑے گا۔

دوسری صورت میں حسن علی کو ڈراپ کیا جائے گا۔دوسری جانب میزبان ٹیم مینجمنٹ کیلیے بھی ٹیم کی سلیکشن آسان کام نہیں، کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے 9 ٹیسٹ میچز میں 16.55 کے اوسط سے 49 شکار کرنے والے ورنون فلینڈر کی واپسی کا اشارہ کپتان فاف ڈوپلیسی دے چکے، تجربہ کار پیسر کا خلا پر کرنے والے اولیور نے سنچورین میں 11 شکار کیے، ان کو ڈراپ کرنا معقول فیصلہ نہیں ہوگا، کاگیسو ربادا نے گزشتہ سال کا اختتام عالمی نمبر ون بولرکی حیثیت سے کیا، ڈیل اسٹین جنوبی افریقہ کیلیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔

واحد اسپنرکیشومہاراج کوباہر بٹھادینے سے قبل بھی خوب سوچنا پڑے گا، میزبان ٹیم ورنون فلینڈر کی جگہ بنانے کیلیے ایک بیٹسمین ڈی بروئن کو باہر بٹھانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ فلینڈر نے گزشتہ 21 ٹیسٹ میں لوئر آرڈر میں بیٹنگ کرتے ہوئے 27.03 کی اوسط سے 730رنز بنائے ہیں، کیپ ٹاؤن میں ان کی اوسط 33.14 اور بیٹسمین کی کمی کسی حد تک پوری کرسکتے ہیں۔دریں اثناء سیریز میں واپسی کا عزم لیے کیپ ٹاؤن میں پہنچنے والی پاکستان ٹیم نے گزشتہ روز پہلا پریکٹس سیشن کیا، ٹریننگ سے قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اپنے لیکچرمیں پلیئرزکومقامی کنڈیشنز سے آگاہ کرنے کیساتھ ان کا حوصلہ بھی بڑھایا، بعد ازاں کھلاڑیوں نے وارم اپ کیا، طویل فیلڈنگ سیشن میں پہلے سلپ کیچز کی مشق ہوئی، اچانک فضامیں اچھالی جانے والی گیندوں کا کیچ کرنے کیلیے بھاگ دوڑ بھی جاری رہی، فیلڈرز نے وکٹوں کو نشانہ بنانے کی مشق بھی کی، نیٹ میں اوپنرز امام الحق اور شان مسعود نے تسلسل کیساتھ شارٹ گیندوں کا سامنا کیا، مڈل آرڈر بیٹسمین اظہر علی، اسدشفیق، بابر اعظم بھی اپنے اسٹروکس بہتر بنانے کیلیے کوشاں رہے۔

اس دوران ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور بیٹنگ کوچ نیٹس کے قریب کھڑے ہوکر بڑی باریک بینی سے بیٹنگ کا جائزہ لیتے ہوئے خامیوں کی نشاندہی کرتے رہے، پیسرز نے بولنگ کوچ اظہر محمود کی رہنمائی میں لائن اور لینتھ بہتر بنانے کیلیے کام کیا، پلیئنگ الیون میں واپسی کیلیے تیار محمد عباس بھی ایکشن میں نظر آئے، محمد عامر، حسن علی اور شاہین آفریدی نے طویل اسپیل  کیے، یاسر شاہ کے ساتھ شاداب خان نے الگ نیٹ میں اسپن بولنگ جاری رکھی،کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کا جمعرات کو آغاز ہوگا۔