محمد عباس پی ایس ایل میں ڈیبیو کا موقع ملنے کے منتظر

محمد عباس ںے کہا ہے کہ وہ پی ایس ایل میں ڈیبیو کا موقع ملنے کے منتظر ہیں۔

محمد عباس پی ایس ایل 4کیلیے ملتان سلطانز کے اسکواڈ میں شامل ہیں لیکن انھیں ابھی تک ایک میچ بھی کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا،پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویو میں اس حوالے سے سوال پر پیسر نے کہا کہ میں ابھی تک پلیئنگ الیون میں شامل نہیں ہوا لیکن اس سے قطعی طور پر پریشان نہیں ہوں، اسکواڈ میں موجود سینئر کھلاڑیوں کا حق تھا کہ مجھ سے پہلے انھیں پرفارم کرنے کا موقع دیا جاتا،مجھے یہاں کے ماحول میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے، جب بھی مینجمنٹ نے میدان میں اتارنے کی ضرورت محسوس کی اپنی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کروں گا۔

پیسر نے کہا کہ رواں سال انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ کیلیے قومی اسکواڈ میں جگہ بنانے کا عزم لیے نیٹ میں سخت پریکٹس اور فٹنس کیلیے ٹریننگ بھی کر رہا ہوں، میں ٹیسٹ کرکٹ جیسی کارکردگی محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی دکھانا چاہتا ہوں، اگر سلیکٹرز نے موقع دیا تو بہترین بولنگ کی کوشش کروں گا۔

محمد عباس نے کہا کہ مجھے انگلش کاؤنٹی کھیلنے کا بھی بڑا فائدہ ہوا لیکن صلاحیتیں نکھارنے میں سب سے اہم کردار ڈومیسٹک کرکٹ کا ہے، انڈر 19کے بعد 8یا 9سیزن ملکی سطح کے مقابلوں میں شریک ہوا، کئی شہروں کی کنڈیشنز میں پرفارم کیا اور سیکھا، اسی تجربے کی بدولت ویسٹ انڈیز اور یواے ای میں بھی تسلسل کے ساتھ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

پیسر نے تسلیم کیا کہ گزشتہ 2سیریز میں ان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی، انھوں نے کہاکہ کندھے کی انجری کے بعد ردھم میں آنے میں تھوڑی دشواری ہوئی،ایل بی ڈبلیو فیصلے نہ دیے جانے اور ڈراپ کیچز کی وجہ سے بھی کارکردگی متاثر ہوئی، امید ہے کہ اگلی سیریز میں عمدہ پرافرم کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔

کچھوے اور خرگوش کی کہانی درست،لگن سچی ہوتو منزل مل ہی جاتی ہے

محمد عباس نے کہاکہ لگن سچی ہوتو منزل مل ہی جاتی ہے، کچھوے اور خرگوش کی کہانی بالکل درست ہے، ماضی میں کئی مشکلات سے گزرا، ویلڈنگ سمیت کئی کام کیے لیکن مسلسل محنت اور کوشش کرتا رہا، شکر ہے کہ تمام جدوجہد بالآخر کارگر ہوئی، گلی محلے سے کرکٹ شروع کرنے کے بعد ملک کی نمائندگی اور فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا،کئی ریکارڈ بھی نام کے آگے درج ہوئے۔