English

پی ایس ایل5 ؛ بقیہ میچز پر سلطانزکا موقف تبدیل ہونے لگا

تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے فرنچائزز کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں پی سی بی نے پی ایس ایل5کے بقیہ میچز نومبر،دسمبر میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا

تصویر: پی ایس ایل

پی ایس ایل 5 کے بقیہ میچز پر ملتان سلطانز کا موقف تبدیل ہونے لگا،پی سی بی سے میٹنگ کے دوران اور بعد میں بذریعہ ای میل خود کو فاتح قرار دینے کا مطالبہ کیا، مگر گذشتہ روز سوشل میڈیا پر شریک مالک علی ترین نے رواں برس کے آخر میں مقابلوں کی حمایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے فرنچائزز کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں پی سی بی نے پی ایس ایل5کے بقیہ میچز نومبر،دسمبر میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا، البتہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ملتان سلطانز نے موقف اختیار کیا کہ پلیئنگ کنڈیشنز کے تحت اسے فاتح قرار دینا چاہیے، گذشتہ روزکرکٹ بورڈ کی جانب سے میٹنگ کے منٹس تمام ٹیموں کو ارسال کیے گئے، ذرائع نے بتایا کہ ملتان سلطانز کی جانب سے اس کے بعد ای میل میں  واضح کر دیا گیا کہ اسے ایونٹ ری شیڈول کرنے پر اعتراض ہے، چونکہ لیگ میچز میں اس نے سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کیے۔

لہذا چیمپئن قرار پانا اسی کا حق ہے۔اس سے قبل ٹیم اونر عالمگیر ترین بھی ناک آؤٹ میچز کے انعقاد کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے کہ عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ روز ہی ملتان سلطانز کے شریک مالک علی ترین نے سوشل میڈیا پر بالکل مختلف موقف اپنایا، انھوں نے کہا کہ ہم تسلسل سے عمدہ کھیل پیش کرنے والی سب سے مضبوط ٹیم ہیں،پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن سے یہ صاف ظاہر ہوگیا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے ٹائٹل جیت لیا،پی سی بی کی جانب سے ہمیں ٹرافی دینا مضحکہ خیز ہوگا، تمام چاروں ٹیموں کے پاس فتح کا موقع ہے۔

ٹرافیز جیتی جاتی ہیں دی نہیں جاتیں،میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ ٹرافیز اہم نہیں، پلیئرز ڈیولپمنٹ اورانھیں صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینا زیادہ خاص ہے، اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ رواں برس بقیہ میچز کا انعقاد ہو، اس سے ہمارے مقامی کھلاڑیوں کو صلاحیتیں نکھارنے کے مزید مواقع ملیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ علی ترین کے اس بیان پر تمام فرنچائزز بھی بیحد حیران ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر پی سی بی کی بات مان ہی لینی تھی تو میٹنگ میں مخالفت اور بعد میں  ای میل کے ذریعے تجاویز کو مسترد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of Cricket Pakistan.