psl
English

پی ایس ایل، فرنچائزز کی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع

پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز میں مالی معاملات پر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے ہیں

پی ایس ایل، فرنچائزز کی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع فوٹو: پی سی بی

پی ایس ایل فرنچائززکی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع ہوگئے جب کہ نئے فنانشل ماڈل کے معاملات تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔

پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز میں مالی معاملات پر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے ہیں، معاملہ جب گذشتہ برس عدالت پہنچا تو سب کو سنگینی کا اندازہ ہوا، بعد میں مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوا،ٹیم مالکان کا موقف ہے کہ لیگ کے آغاز سے ہی وہ مالی نقصانات کا شکار ہیں،فنانشل ماڈل کو ہر حال میں ٹھیک کرنا چاہیے،پس پردہ بورڈ حکام بھی ان کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔

وہ تبدیلی پر آمادہ مگر ساتھ یہ خدشات بھی ستا رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں حکومت یا بورڈ کی تبدیلی ہوئی توکہیں انھیں نیب اور ایف آئی اے کے سامنے اس حوالے سے پیشیاں نہ بھگتنی پڑ جائیں، نئے ماڈل کو قانونی تحفظ دینے کیلیے مختلف اقدامات ہو رہے ہیں۔

بورڈ ذرائع کے مطابق انگلینڈ روانگی سے قبل گذشتہ دنوں چیئرمین احسان مانی نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی فرنچائزز کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، انھوں نے  ریلیف دینے کی صورت میں ممکنہ مسائل کا تذکرہ کیا۔

سرپرست اعلیٰ  نے ’’جوڈیشل ریویو‘‘ کی تجویز دی جس پر پی سی بی نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کر لی ہیں،اس سے قبل ایک بزنس مینجمنٹ کنسلٹنٹ کمپنی ای وائی فورڈ رہوڈز سے معاہدہ کیا گیا جس نے تمام فرنچائزز سے اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کیں،اس کی رپورٹ ریٹائرڈ جج کو دی جائیں گی جو حتمی تجاویز پیش کریں گے،پھر بورڈ فرنچائزز کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے اتفاق کی صورت میں نئے فنانشل ماڈل کو لاگو کر دے گا۔

گذشتہ عرصے تشکیل کردہ تیسرے مجوزہ ماڈل کے مطابق فیس کیلیے 31 دسمبر 2020کا ڈالر ریٹ آئندہ 14برس کیلیے فکسڈ کرنے، اخراجات نکال کرسینٹرل انکم پول میں 7 ارب روپے جمع ہونے یا پی ایس ایل 20 میں سے جو بھی پہلے ہو فیس لینے کا طریقہ کار برقرار رکھنے، اس دوران تمام معاہدوں میں سے92.5 فیصد حصہ فرنچائزز اور باقی7.5 بورڈ کو دینے کا ذکر ہے، اس کے بعد آئندہ 30 برس تک فیس نہیں لی جائے گی مگر تمام معاہدوں میں سے70 فیصد حصہ پی سی بی اور باقی 30 فیصد فرنچائزز کا ہوگا۔

ٹیم اونرز نے چند ماہ قبل ڈالر ریٹ کو پھر فکسڈ کرنے کے حوالے سے بورڈ کو ای میل بھیجی ہے،155 کا نرخ اگلے چند برس کیلیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی،اس میں 5 فیصد اضافہ یا کمی ہی ہو سکے گی، ابھی تک انھیں اس کا کوئی  جواب نہیں ملا۔

رابطے پر ایک ٹیم اونر نے کہا کہ پی سی بی ہمارے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے، خاص طور پر چیئرمین احسان مانی کا رویہ بڑا مثبت نظر آتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ بورڈ اور فرنچائززکے تعلقات مثالی ہوں،اس کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں،اگر مالی معاملات ایک بار طے ہو گئے تو پی ایس ایل مزید ترقی کرے گی۔

کرکٹ پاکستان اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔