English

ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور کا بروقت تیار ہونا دشوار

1ارب 39کروڑروپے کی لاگت کا منصوبہ شروع کیا گیا،ابھی تک کام جاری

PHOTO: FILE

پی سی بی نے پی ایس ایل فائیو کے تمام میچز پاکستان میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی اور لاہور کے ساتھ راولپنڈی اور ملتان کو بھی میزبان شہروں میں شامل کیا تھا، پشاور زلمی کی جانب سے پی سی بی کو بھجوائی جانے والی ای میلز میں پی ایس ایل فائیو کے کم از کم 2میچز پشاور میں بھی کرانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا،البتہ ارباب نیاز اسٹیڈیم کا بروقت تیار ہونا مشکل نظر آرہا ہے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’ٹاک کرکٹ ود سلیم خالق‘‘میں ’’ایکسپریس‘‘ کے نمائندے احتشام بشیر نے بتایا کہ 1984میں تعمیر کیے جانے والے سٹیڈیم کی گنجائش 25ہزار تھی، 2006میں بھارتی ٹیم سے میچ کے وقت آئی سی سی نے یہاں فلڈلائٹس اور ڈریسنگ روم کی حالت پر اعتراض اٹھایا تھا، ماضی کی حکومتیں اس وینیو کو نظر انداز کرتی رہیں، گذشتہ دور میں یہاں ایک ارب 39کروڑ روپے کی لاگت کا منصوبہ شروع کیا گیا اس پر ابھی تک کام جاری ہے،اس کو پی ایس ایل کے میچز کی میزبانی کیلیے تیار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر عاطف خان نے گذشتہ دنوں اسٹیڈیم کا دورہ کیا تو کنٹریکٹر کا کہنا تھا کہ ایسا ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے،صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ہدایت کی ہے کہ کم از کم ضروری کام مکمل کرلیا جائے تاہم اصل مسئلہ فلڈ لائٹس کی تنصیب ہوگی، پلان کے مطابق دبئی اسٹیڈیم کی طرز پر روشنیوں کا انتظام کیا گیا تو اس کے لیے انفرا اسٹرکچر بنانا ہوگا۔

پشاور زلمی کے مالک ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر کھیلتا دیکھنے کے خواہاں

پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر کھیلتا دیکھنے کے خواہاں ہیں،انھوں نے کہاہ ہم اپنے پرستاروں کے سامنے ایکشن میں نظر آنا چاہتے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کی بھی خواہش ہے کہ یہاں پی ایس ایل فائیو کے میچز ہوں، سینئر وزیر عاطف خان نے یقین دلایا ہے کہ تعمیراتی کام بروقت مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ڈرافٹ میں ابھی وقت باقی ہے، ہیڈ کوچ محمد اکرم فہرست تیار کررہے ہیں، امید ہے کہ گزشتہ ایونٹس کی طرح اس بار بھی پشاور زلمی کا پورا سکواڈ پاکستان آئے گا،اب وقت آگیاکہ ڈرافٹ میں صرف ان کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے جو ہمارے ملک میں آکر کھیلنے کیلیے تیار ہوں۔

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of Cricket Pakistan.