English

پی ایس ایل کا ٹائٹل کون جیتے گا، فیصلے کی گھڑی آگئی

پی ایس ایل کی چمکتی ٹرافی کون اٹھائے گا، فیصلے کی گھڑی آگئی، چوتھے ایڈیشن کا فائنل آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا

PHOTO: PCB

پی ایس ایل فور کی رنگا رنگ اختتامی تقریب آج نیشنل اسٹیڈیم میں سجے گی جس میں معروف فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے جب کہ ٹائٹل کیلیے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

پی ایس ایل کی چمکتی ٹرافی کون اٹھائے گا، فیصلے کی گھڑی آگئی، چوتھے ایڈیشن کا فائنل آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹائٹل کی پیاس بجھانے کیلیے بے تاب ہے،کپتان سرفراز احمد کو ایونٹ کے ٹاپ اسکورر شین واٹسن کی خدمات میسر ہونگی، عمر اکمل، احمد شہزاد، رلی روسو اور احسان علی بھی حریفوں کے چھکے چھڑانے کی کوشش کریں گے۔

آل راؤنڈرز ڈیوائن براوو، اور محمد نواز، تجربہ کار پیسر سہیل تنویر اور باصلاحیت محمد حسنین دھاک بٹھانے کیلیے تیار ہیں، انجرڈ اسپنر فواد احمد کی شرکت یقینی نہیں ہے، حالیہ ایونٹ کے تینوں باہمی مقابلوں میں حریف پر فتوحات سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا اعتماد بلندیوں پر ہے۔

دوسری جانب پشاورزلمی کی ٹیم بھی 2017 کی تاریخ دہراتے ہوئے دوسری بار چیمپئن بننے کا عزم لیے میدان میں اتریگی، ٹاپ آرڈر میں جارح مزاج کامران اکمل اور ان فارم امام الحق موجود ہیں،میچ ونرز کیرون پولارڈ اور ڈیرن سیمی بھی دستیاب ہیں، چوتھے ایڈیشن کے کامیاب ترین بولر حسن علی، برق رفتار وہاب ریاض، سلو بال کے ماہر ٹائمل ملز اور پیسر کرس جورڈن حریف ٹیم کی بیٹنگ کا حوصلہ آزمائیں گے۔

پی ایس ایل 4کے یو اے ای میں لیگ میچز کے اختتام پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 14 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست، پشاورزلمی12 دوسرے نمبر پر تھی،نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز نے سرفراز الیون کو سخت مقابلے کے بعد ایک رن سے شکست دی، ڈیرن سیمی الیون نے میزبان ٹیم کو61رنز سے مات دیکر اپنے پوائنٹس 14کیے اور بہتر نیٹ رن ریٹ کی بدولت لیگ مرحلے میں ٹاپ پر جگہ بنائی۔

کوالیفائر میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاوزلمی کو 10رنز سے شکست دیکر براہ راست فائنل کیلیے کوالیفائی کیا،پشاور زلمی نے ایک موقع گنوانے کے بعد دوسرے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایلیمنیٹر ون میں کراچی کنگز کو زیر کرنے والی دفاعی چیمپئن ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہراکر فائنل تک رسائی حاصل کرلی، اتوار کو ٹرافی میچ میں مقابل دونوں ٹیموں کو پی ایس ایل کا روایتی حریف کہا جاتا ہے، ان کے مابین بیشتر مقابلے کانٹے دار ہوئے ہیں۔

پہلے ایڈیشن میں دونوں ٹیموں نے ایک ایک میچ جیتا، کوالیفائر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 134 رنز کے معمولی ہدف کا دفاع کرتے ہوئے صرف ایک رن سے فتحیاب ہوئی لیکن فائنل میں اسلام آباد نے مات دیکر ٹائٹل پر قبضہ جمایا۔

دوسرے ایڈیشن میں ایک میچ پشاور زلمی نے جیتا، دوسرا بارش کی نذر ہوا،دونوں ٹیمیں کوالیفائر میں مقابل ہوئیں، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے201 رنز بنانے کے بعد اس بار بھی ایک رن سے کامیابی حاصل کی، پشاور زلمی نے ایلیمنیٹر ٹو میں کراچی کنگز کو مات دینے کے بعد لاہور میں منعقدہ فائنل میں147رنز بناکر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو صرف90 پر ڈھیر کردیا،بیشتر غیر ملکی کرکٹرز کا پاکستان آنے سے انکار سرفرازالیون کو کمزور کرنے کی وجہ بنا۔

گزشتہ سال لیگ مرحلے میں دونوں ٹیموں نے ایک ایک میچ جیتا،اس بار ایلیمنیٹر میں پشاور زلمی نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی۔چوتھے ایڈیشن کے لیگ مرحلے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز دونوں میچز میں پشاور زلمی پر بھاری ثابت ہوئے، پہلے میں6 اوردوسرے میں8 وکٹ سے فتح پائی، سرفراز الیون نے حالیہ ایونٹ میں ڈیرن سیمی الیون کیخلاف فتوحات کی ہیٹ ٹرک کوالیفائر میچ میں مکمل کی۔

مجموعی ریکارڈ بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی برتری ثابت کرتا ہے، اب تک 13 باہمی مقابلوں میں سرفراز الیون نے7اور ڈیرن سیمی نے5 میں کامیابی حاصل کی، ایک میچ بے نتیجہ رہا، دونوں ٹیموں کے مابین 2017 فائنل میں پشاورزلمی سرخرو ہوئے تھے۔

ابھی تک 3فائنلز کھیل کر ٹائٹل کی پیاس نہ بجھا پانے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اہم ترین کھلاڑی شین واٹسن اس بار کراچی میں کھیلنے پر آمادہ ہوئے اور اپنی افادیت بھی ثابت کررہے ہیں، آسٹریلوی کرکٹر 423رنز کیساتھ بیٹسمینوں میں سر فہرست ہیں، انھوں نے کوالیفائر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیخلاف 71کی جارحانہ اننگز کھیلی تھی، عمر اکمل 277رنز بنا چکے اور اچھی فارم میں ہیں۔

احمد شہزاد253 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوئے، انھوں نے کراچی میں ہی میزبان ٹیم کیخلاف99رنزکی اننگز کھیلی تھی، رلی روسو کا بیٹ زیادہ نہیں چل سکا البتہ وہ بڑے میچ میں بڑی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، احسان علی نے کوالیفائر میں جارحانہ 46 رنز کی اننگز سے فارم کی جھلک دکھا دی تھی، ڈیوائن براوو اور محمد نواز جیسے جارح مزاج آل راؤنڈرز بیٹ اور بال دونوں سے حریف کیلیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

تجربہ کار پیسر سہیل تنویر15وکٹوں کیساتھ کامیاب بولرز کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں، سابق کرکٹرز اور شائقین کی نظروں میں مستقبل کی امید قرار دیے جانیوالے نوجوان پیسر محمد حسنین بھی ایکشن میں ہونگے،اسپنرفواد احمد کی انجری کے سبب شرکت مشکوک ہے، عدم دستیابی پر ان کاخلا پُرکرنا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے چیلنج ہوگا۔

دوسری جانب پشاور زلمی کے کامران اکمل کا بیٹ مسلسل رنز اگل رہا ہے، آخری لیگ میچ میں کراچی کیخلاف 86 اور ایلیمنیٹر ٹو میں اسلام آباد کے مقابل 74 کی اننگز کھیلنے والے اوپنر ٹاپ آرڈر میں استحکام کی ضمانت بنے ہوئے ہیں،انھوں نے اب تک ایونٹ میں 336 رنز جوڑے اور کامیاب ترین بیٹسمینوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں،چوتھی پوزیشن پر موجود امام الحق338 رنز کے ساتھ تسلسل سے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کررہے ہیں۔

لیام ڈاؤسن اچھے بیٹسمین ہونے کے باوجود صلاحیتوں سے انصاف نہیں کرپا رہے، وہ سلو بولر کا خلا بھی پُر کرتے ہیں،صہیب مقصود کی فارم قابل تشویش اور ان کو ڈراپ کیا جا سکتا ہے، پولارڈ اور ڈیرن سیمی نے کوالیفائر میں جارحانہ بیٹنگ سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بے بس کردیا تھا لیکن آخری لمحات میں بازی پلٹ گئی، دونوں ایک بار پھر بولرز کی درگت بنانے کیلیے بے تاب ہونگے۔

ویسٹ انڈیز کیخلاف انٹرنیشنل میچز کی وجہ سے اسکواڈ کو تاخیر سے جوائن کرنیوالے انگلش آل راؤنڈر کرس جورڈن نے ایلمنیٹر ٹو میں 3وکٹیں لے کر افادیت ثابت کردی،وہ بولنگ میں ورائٹیز سے دھوکا دینے کی صلاحیت کے ساتھ جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کیلیے بھی مشہور ہیں۔

حسن علی25 وکٹوں کے ساتھ کامیاب ترین بولر ہیں، وہاب ریاض16شکار کرکے تیسرے نمبر پر ہیں،ٹائمل ملز سلو گیندوں کی وجہ سے شراکتیں توڑنے کی شہرت رکھتے ہیں، ثمین گل بعض اوقات مہنگے ثابت ہوتے ہیں لیکن ان میں وکٹیں اڑانے کی صلاحیت موجود ہے، دونوں ٹیمیں خاصی متوازن اور فائنل میں دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔

فائنل سے قبل میوزیکل کنسرٹ  ہوگا، کنسرٹ کے لیے اسٹیج کی تیاری کا کام مکمل کرلیا گیا، تقریب کے لیے 68 فٹ لمبا اسٹیج تیار کیاگیا ہے ، کنسرٹ میں معروف فنکار اپنے  فن کا مظاہرہ کریں گے، آئمہ بیگ،ابرار الحق، فواد خان اور جنون گروپ اسٹیج پر جلوہ گر ہوں گے، انٹرنیشنل  فٹبال اسٹار کارل پائیول بھی تقریب کا حصہ بنیں گے۔

فائنل اور اختتامی تقریب میں اہم ترین شخصیات کی شرکت متوقع ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی،وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی آمد کا امکان ہے۔

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of Cricket Pakistan.