English

نادہندہ پی ایس ایل فرنچائزز کو واجبات کی ادائیگی کیلیے ایک ہفتے کا وقت

پی سی بی نے پی ایس ایل کا الگ ڈپارٹمنٹ بنانے کے حوالے سے آگاہی دی جس پر فرنچائزز نے اپنی نمائندگی نہ ہونے کا نکتہ اٹھایا

فوٹو: پی سی بی

پی سی بی نے پی ایس ایل کی بعض نادہندہ فرنچائزز کو واجبات کی ادائیگی کیلیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا،اجلاس میں مالکانہ حقوق کی مدت بڑھانے اور ہوم اینڈ اوے میچز کی تجاویز پر غور کا یقین دلایا گیا، پی ایس ایل 5کے بقیہ میچز یو اے ای میں کرانے کی تجویز مسترد کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کا اجلاس گذشتہ روز ویڈیو لنک پر منعقد ہوا، اس موقع پر پی سی بی نے بتایا کہ بعض فرنچائزز کو واجبات کی ادائیگی کرنا ہے، انھیں اس کیلیے ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں، پہلے یہ معاملہ حل ہو پھر آگے چلیں گے،ذرائع کے مطابق ایک ٹیم کو ٹیکس کی رقم جبکہ دوسری کو فیس کا کچھ حصہ دینا ہے، اجلاس میں فرنچائزز کے مالکانہ حقوق کی مدت بڑھانے اور ہوم اینڈ اوے میچز کی تجاویز پر غور کا یقین دلایا گیا، پی ایس ایل 5کے بقیہ میچز یو اے ای میں کرانے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔

ایونٹ 30میچز پر ختم یا مکمل کرنیکا فیصلہ ستمبر تک کرنیکا فیصلہ ہوا، فرنچائزز نے میٹنگ میں کہا کہ بورڈ تو پیسہ کما رہا ہے لیکن لیگ سے انھیں مالی نقصان کا سامنا ہے لہذا فنانشل ماڈل تبدیل کیا جائے، اس پر حکام نے ان سے اسپانسرشپ معاہدوں کی تفصیل مانگتے ہوئے معاملے پر غور کا یقین دلایا۔ ٹیم اونرز نے نئے 15فیصد رائلٹی ٹیکس کا بھی پوائنٹ اٹھایا، فیس کیلیے ڈالر کا ریٹ طے کرنے کیلیے ایک کمپنی کی خدمات لی گئی تھیں، اس کی رپورٹ کو مسترد کر دیا گیا، ایک کمیٹی بنا دی گئی جو 2 ہفتوں میں اس حوالے سے تجاویز دے گی۔

پی سی بی نے پی ایس ایل کا الگ ڈپارٹمنٹ بنانے کے حوالے سے آگاہی دی جس پر فرنچائزز نے اپنی نمائندگی نہ ہونے کا نکتہ اٹھایا، بورڈ نے ایک اور اہم معاملے پر ٹیموں کو اعتماد میں لیا۔گورننگ کونسل کا اگلا اجلاس رواں ماہ کی28 تاریخ کو ہوگا۔

فرنچائزز سے بورڈکی امیج بلڈنگ میں کردار اداکرنے کی درخواست

پی ایس ایل گورننگ کونسل میٹنگ کے اختتام پر ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے فرنچائزز سے درخواست کردی کہ وہ پی سی بی کی امیج بلڈنگ میں کردار ادا کریں، اس موقع پر شرکا نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ ہر ریجن کے بورڈ میں فرنچائز کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of Cricket Pakistan.