English

فائنل کا ماحول مختلف اور ایک نیا چیلنج ہوگا، سرفراز احمد

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اس بار غیر ملکی کھلاڑیوں کے آنے سے ہمارا کمبی نیشن برقرار رہا ہے

PHOTO COURTESY: Twitter/PSL

لاہور: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پی ایس ایل4میں پشاور زلمی کیخلاف فتوحات کی ہیٹ ٹرک ماضی ہوگئی تاہم فائنل کا ماحول مختلف اور ایک نیا چیلنج ہوگا۔

مقامی ہوٹل میں  پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویو میں سرفراز احمد نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل 4میں پشاور زلمی کیخلاف تینوں میچز ضرور جیتے لیکن فائنل کا ماحول مختلف اور ایک نیا چیلنج ہوگا، حریف ٹیم فتوحات حاصل کرتی چلی آرہی ہے، ہم ایک مضبوط سائیڈ کو آسان نہیں سمجھ سکتے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اس بار غیر ملکی کھلاڑیوں کے آنے سے ہمارا کمبی نیشن برقرار رہا ہے، ہم بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ٹائٹل جیتنے کی کوشش ہوگی، سرفراز نے کہا کہ شین واٹسن نے جس میچ میں بھی پرفارم کیا ہمارے لیے فتح کا سفر آسان ہو گیا، کوالیفائرمیں بھی انھوں نے احسان علی کے ساتھ مل کر بڑے اسکور کی بنیاد رکھی،آسٹریلوی کرکٹر تن تنہا میچ جتوا سکتے ہیں۔

کپتان نے کہا کہ پی ایس ایل 4میں فواداحمد اور محمد نواز دونوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، بدقسمتی سے فواد کو انجری ہوگئی، فائنل سے قبل ان سے بولنگ کرا کر دیکھیں گے، اگر انھوں نے بہتر محسوس کیا تو ہی میدان میں اتاریں گے۔

سرفراز نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں اور آرام کرنے والوں کی سلیکشن کا کوئی مسئلہ نہیں، کھلاڑیوں کو بعدازاں ورلڈ کپ کی تیاری کیلیے پریکٹس میچ سمیت 10 ون ڈے کھیلنا ہیں۔

بچپن میں نیشنل اسٹیڈیم میچز دیکھنے آتا تھا،کھیلنے کا موقع بھی مل گیا

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ میں بچپن میں نیشنل اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل میچ دیکھنے کیلیے آتا تھا، قدرت نے خود یہاں کھیلنے کا موقع دیدیا۔ انھوں نے بتایا کہ 1996 میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے مابین ورلڈ کپ سیمی فائنل دیکھا، بعدازاں نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کا میچ دیکھنے کیلیے بھی آیا، 2008 میں یہاں ایشیا کپ کھیلنے کا موقع ملا، خوشی کی بات ہے کہ اب پھر انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ بحال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پی ایس ایل میچز اور ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کھیلنے کا موقع ملا، چند مسائل کے باوجود لوگ بڑے جوش و خروش سے میچز دیکھنے کیلیے آرہے ہیں، یہ رونقیں شائقین کے دم سے ہیں، دوسری جانب دنیا کو بھی یہ پیغام جا رہا ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک اور لوگ کھیل سے پیار کرنے والے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بہترین انتظامات کا کریڈٹ پی سی بی، فوج، رینجرز، پولیس اور ایجنسیز سب کو جاتا ہے، یہاں بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی کرکٹرز نے بھی پاکستانی کھانوں کا بھرپور لطف اٹھایا

غیر ملکی کرکٹرز نے پاکستانی کھانوں کا بھرپور لطف اٹھایا، کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ سر ویوین رچرڈز تو کئی بار آ چکے، وہ نہاری بھی مزے سے کھا رہے ہیں، دیگر کرکٹرز بھی ریسٹورنٹ میں پاکستانی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے ہیں، مصروفیات اور سیکیورٹی کی وجہ سے مہمان کھلاڑی زیادہ گھوم پھر نہیں سکے،البتہ گالف وغیرہ کھیلنے کیلیے گئے ہیں۔

دہشت گردی کے دکھ کو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے دکھ کو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا، ہم کئی سال اس صورتحال کا شکار رہے ہیں، ہمارے لوگ اور جوان شہید ہوئے، میری ہمدردیاں نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں، اللہ تعالی ان کو صبر عطا کرے۔

سرفراز احمد بھی پاس مانگنے والوں کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر

سرفراز احمد بھی پاس مانگنے والوں کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ تو بڑی ہوتی ہے2دن ہو گئے کوئی مثبت جواب نہیں آیا کہ پاسز مل جائیں گے، 1،2 نے پیغام ضرور دیا ہے کہ پوری کوشش کر رہے ہیں۔

شین واٹسن کو آخری اوور دینے کا فیصلہ معین اورعبدالرزاق کے مشورے پرکیا

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پشاور زلمی سے کوالیفائر میں شین واٹسن کو آخری اوور دینے کا فیصلہ معین خان اورعبدالرزاق کے مشورے پر کیا، ہمیں معلوم تھا کہ آسٹریلوی آل راؤنڈر نے ایک عرصے سے بولنگ نہیں کی، میں فواد احمد کی انجری کے بعد شین واٹسن کو ذہنی طور پر تیار کرتا رہا کہ ہوسکتا ہے آپ کو بولنگ کرنا پڑ جائے، میں نے اور احمد شہزاد نے ان سے بات کی کہ احسان علی سے اوور کرایا تو کیرون پولارڈ 3 چھکے لگا دیں گے، آپ 20 رنز بھی دے دیں تو دکھ نہیں ہوگا،میڈیم پیس سے بھی اگر 1،2گیندیں ضائع کر دیں تو جیتنے کے امکانات ہوں گے، شین واٹسن راضی ہوئے اور ہم میچ بھی جیت گئے۔

حسنین کو فوری طور پرپاکستانی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنایا جائیگا

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ محمد حسنین کو بطور 16 واں کھلاڑی قومی ٹیم میں شامل کیا گیا، انھیں فوری طور پر پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنائیں گے،ہم شاہین شاہ آفریدی کی طرح ان کو بھی مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں، محمد حسنین قومی کرکٹرز کے ساتھ رہتے ہوئے سیکھیں اور ماحول سے مطابقت پیدا کریں گے،اگر ضرورت پڑی تو ان کو میچ کھیلنے کا موقع بھی مل جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ عمراکمل نے ڈومیسٹک ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے بعد پی ایس ایل میں بھی اچھی فارم کا مظاہرہ کیا،وہ سب کی نظروں میں تھے، ان کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے، احمد شہزاد بھی پی ایس ایل کی ابتدا میں تھوڑا مشکلات کا شکار تھے، وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں،انھوں نے کم بیک کیا اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے پرفارم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of Cricket Pakistan.