English

قومی ستارے ابوظہبی میں جگمگانے کو تیار

چند غیرملکی کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث تقریباََ تمام ٹیموں میں شامل سینئر قومی کرکٹرز کا کردار اب اور بھی زیادہ  اہم ہوگیا ہے

قومی ستارے ابوظہبی میں جگمگانے کو تیار فوٹو: پی سی بی

ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کے ابوظہبی منتقل کیے گئے بقیہ تمام میچز جون کے پہلے ہفتے سےشیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ 

ٹورنامنٹ کی کراچی لیگ میں شامل 14 میچز کے بعد دفاعی چیمپئن کراچی کنگز، 2017 کی چیمپئن پشاور زلمی، 2016 اور 2018 کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور گزشتہ سال کی رنرزاپ لاہور قلندرز کی ٹیمیں چھ، چھ پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر پہلی چار پوزیشنز پر موجود ہیں۔ 

چونکہ لیگ کے ابتدائی شیڈول میں تبدیلی کی گئی تھی لہٰذا چند غیرملکی کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث تقریباََ تمام ٹیموں میں شامل سینئر قومی کرکٹرز کا کردار اب اور بھی زیادہ  اہم ہوگیا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف، لاہور قلندرز کے فخر زمان، کوئٹہ گلیڈ ی ایٹرز کے محمد نواز، کراچی کنگز کے شرجیل خان، پشاور زلمی کے شعیب ملک اور ملتان سلطانز کے صہیب مقصود کا شمار ان چند ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ میں ہوتا ہے جو  کسی بھی وقت اپنی ٹیم کے لیے میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل راؤنڈر فہیم اشرف نے لیگ کے ابتدائی راؤنڈ میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔   انہوں نے 20 کی اوسط اور 6.15 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 4 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ایک میچ میں عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 4 اوورز میں 11 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ   158.06 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ میں 49 رنز بناچکے ہیں۔

لاہورقلندرز کے اوپنر فخرزمان ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں پہلے نمبر پرموجود ہیں۔ انہوں نے کراچی میں کھیلے گئے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 143.18 کے اسٹرائک ریٹ اور 63 کی اوسط کے ساتھ  189 رنز بنائے۔ اس د وران انہوں نے ایک میچ میں 83 رنز کی اننگز بھی کھیلی۔ 

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آلراؤنڈر محمد نواز نے کراچی لیگ میں 89 رنزبنانے کے ساتھ ساتھ ایک وکٹ بھی حاصل کی۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں کراچی کی ہائی اسکورنگ لیگ کے باوجود، ابتدائی میچز میں اب تک 7.38 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ باؤلنگ کی جو قابل ستائش ہے۔

کراچی کنگز کے اوپنر شرجیل خان نے کراچی لیگ میں بننے والے واحد سنچری اسکور کی ، انہوں نے 170.94 کے اسٹرائیک ریٹ اور 40 کی اوسط سے  200 رنز بنارکھے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پانچ میچز کے دوران 15 چھکے اور 19 چوکے لگائے۔

پشاورزلمی کے آلراؤنڈرشعیب  ملک نے کراچی میں کھیلے گئے پانچ میچز میں 33.66 کی اوسط سے  101 رنز اسکور کیے۔انہوں نے  ٹورنامنٹ کی ابتدائی لیگ کے پانچ میچز میں  پانچ چھکے اور چھ چوکے جڑے۔

صہیب مقصود ملتان سلطانز کی طرف سے اب تک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دوسرے بیٹسمین ہیں،وہ 45 کی اوسط سے 135 رنز بناچکے ہیں۔

فہیم اشرف، اسلام آباد یونائیٹڈ:

اسلام آباد یونائیٹڈ کے آلراؤنڈر فہیم اشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے کراچی لیگ کو بہت انجوائے کیا،  جہاں نے انہوں نے باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔

فہیم اشرف نے کہا کہ ابوظہبی میں گرمی اورنمی کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں ان کی فٹنس کا کردار کلیدی ہوگا ، ،وہ  ابوظہبی میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

فخر زمان، لاہور قلندرز:

فخر زمان کا کہنا ہے کہ حالیہ چند ماہ میں لاہور قلندرز اور پاکستان ، دونوں کی  نمائندگی کے دوران عمدہ کارکردگی کی وجہ سے ان  کے اعتماد میں اضافہ ہوا، کراچی لیگ میں لاہور قلندرز کی کارکردگی قدرے  بہتر رہی ہے اوروہ یہ  تسلسل ابوظہبی میں برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں متحدہ عرب امارات کی پچز پر کرکٹ کھیلنے کا ایک وسیع تجربہ ہے، ابوظہبی کی پچز بیٹنگ کے لیے سازگار ہوگی  جس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

محمد نواز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:

محمد نواز کا کہنا ہے کہ  کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے کراچی لیگ قدرے مشکل رہی تاہم آخری میچ میں کامیابی سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ابوظہبی لیگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے پرامید ہیں،ہمیشہ یو اے ای میں باؤلنگ کرنے کا لطف اٹھایا ۔

شرجیل خان،کراچی کنگز:

شرجیل خان کا کہنا ہے کہ کراچی لیگ میں متاثر کن کارکردگی کی بدولت ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان میچز میں انہوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایونٹ کی واحد سنچری بھی اسکور کی۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز کو پوائنٹس ٹیبل پر بدستور پہلے نمبر پر برقرار رکھنے کی ہرممکن کوشش جاری رکھیں گےتاہم  ابوظہبی کی گرم کنڈیشنز میں یہ آسان نہیں ہوگا ، اننگز کے آغاز میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرکے ٹیم کو نفسیاتی برتری دلانے کی کوشش کریں گے۔

شعیب ملک،  پشاور زلمی:

شعیب ملک کا کہنا ہے کہ ایک تجربہ کار کھلاڑی کی حیثیت سے مشکل کنڈیشنز میں اپنی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دینا ان کی ذمہ داری ہے، وہ کراچی لیگ میں اپنی بیٹنگ فارم اور حالیہ فٹنس پر مطمئن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابوظہبی کی گرم کنڈیشنز کا کردار بہت اہم ہوگا، جو ان کنڈیشنز سے بہتر نبردآزما ہوگا، اس کی کامیابی کی امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔

صہیب مقصود، ملتان سلطانز:

صہیب مقصود کا کہنا ہے کہ کراچی لیگ ہماری ٹیم کے لیے قدرے مشکل تھی لیکن ہم نے بھرپور محنت کے ساتھ ہر میچ میں اچھا مقابلہ کیا،ابتدائی لیگ میں ان کی بیٹنگ بہتر تھی اور وہ ابوظہبی میں اسی تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

صہیب مقصود نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں کچھ وقت گزارا ہے ، جس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔