English

’’کریڈٹ گوز ٹو اجو بھائی‘‘

موجودہ بولنگ اٹیک کے بل بوتے پر ورلڈکپ کا سیمی فائنل کھیلنا بھی دشوار دکھائی دے رہا ہے۔

فوٹو: فائل

اگر یہ اوسط کسی بیٹسمین کی ہو تو یقیناً وہ ورلڈکلاس کہلائے گا، جس ٹیم کے پاس ایسے زبردست کھلاڑی ہوں اس سے حریف خوفزدہ ہی رہتے ہوں گے، البتہ یہاں معاملہ الٹا ہے یہ ایوریجز پاکستان کے تین اہم فاسٹ بولرز کی ہے۔

رواں برس 7میچز میں فہیم اشرف نے 2 وکٹیں 167.50 کی اوسط سے لی ہیں،محمد عامر نے5 میچز میں 80.50 کی ایوریج سے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ حسن علی نے 7 ون ڈے میں 4 وکٹیں 74.50 کی اوسط سے حاصل کیں، اگر مین اسپنر شاداب خان کی بات کریں تو انھوں نے بھی 5 میچز میں اتنی ہی وکٹیں 50 سے زائد کی ایوریج سے لیں،خود ساختہ آل راؤنڈر عماد وسیم نے 13 میچز میں 7 وکٹیں 82.71 کی اوسط سے حاصل کیں۔

اگر پاکستانی ٹیم رواں برس 12میں سے صرف2 ہی ون ڈے جیت سکی اور آخری 10مقابلوں سے فتح کو ترسی ہوئی ہے تو اس کی ایک اہم وجہ بولرز کا یہ غیرمعیاری کھیل ہی ہے، بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہوں کہ بولرز پاکستان کو میچز جتواتے ہیں بیٹنگ ناکام رہتی ہے مگر اب ایسا نہیں لگتا، اب بولرز ٹیم کو ہروا رہے ہیں، ایک زمانے میں ہمارے پیسرز سے حریف بیٹسمین تھر تھر کانپتے تھے۔

 

اب ہمارے بولرز حریف بیٹسمینوں سے پٹائی کا سوچ کر تھرتھر کانپ رہے ہوتے ہیں، انگلینڈ سے حالیہ سیریز کو ہی دیکھ لیں تاریخ میں پہلی بار مسلسل تین میچز میں ٹیم نے 340 سے زائد رنز بنائے اور ہر بار میزبان نے ہدف عبور کر لیا، ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ورلڈکپ میں ہم کیا کریں گے؟ یقیناً ٹیم مینجمنٹ بھی اس حوالے سے سوچ رہی ہو گی۔

اظہر محمود طویل عرصے سے ٹیم کے ساتھ بطور بولنگ کوچ موجود ہیں، بولرز کی زبانیں ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتیں مگر کیا وہ ہر ماہ ملنے والی10 لاکھ روپے سے زائد رقم کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا اس پرفارمنس کے بعد بھی پلیئرز کہیںگے ’’کریڈٹ گوز ٹو اجو بھائی‘‘،سابق کرکٹر کی توجہ اب دوستوں کو فائدہ پہنچانے پر مرکوز ہے، ماہر نفسیات تیمور علی خان کو بھی وہی ٹیم میں لائے جو کوئی بہتری نہ لا سکے۔

محمد عامر کو ٹیم مینجمنٹ نے مسلسل سپورٹ کیا مگر وہ ناکامیوں کا شکار ہیں، اس کے باوجود اب انھیں ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی تیاری ہو رہی ہے، نجانے کیوں سلیکٹرز نے انھیں ابتدا میں ڈراپ کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا،اگر خدانخواستہ میگا ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی اچھی نہ رہی تو اس میں اہم کردار ہر ماہ15 لاکھ روپے سے زائد معاوضہ لینے والے غیر ملکی دوروں کے شوقین چیف سلیکٹر انضمام الحق کا بھی ہو گا، ان کے غلط فیصلوں نے ملکی کرکٹ کو بیحد نقصان پہنچایا ہے۔

عامر کے بارے میں کہا گیا کہ انگلینڈ سے سیریز میں کارکردگی دیکھیں گے مگر وہ تو چکن پاکس کی وجہ سے کھیل ہی نہ سکے تو کیسے واپس آ جائیں گے؟2019میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر عثمان شنواری ہیں جنھوں نے 6 میچز میں 26.60 کی اوسط سے 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، وہ سال میں 2 بار میچ میں چار وکٹیں لینے والے واحد بولر بھی ہیں، مگر ورلڈکپ میچز گھر پر ٹیلی ویڑن اسکرین پر دیکھیں گے۔

وہاب ریاض نے ڈومیسٹک مقابلوں میں اچھا پرفارم کیا مگر کوچ مکی آرتھر شاید اب بھی ان کے حوالے سے دل صاف نہیں کر سکے وہ بھی ٹیم سے باہر ہیں، نوجوان محمد حسنین کو فاسٹ ٹریک پر قومی ٹیم میں لے تو آیا گیا مگر انٹرنیشنل کرکٹ کے دباؤ سے وہ بالکل ناواقف ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیسا پرفارم کر پاتے ہیں، شاہین شاہ آفریدی اور جنید خان کی کارکردگی بھی واجبی سی ہے۔

موجودہ بولنگ اٹیک کے بل بوتے پر ورلڈکپ کا سیمی فائنل کھیلنا بھی دشوار دکھائی دے رہا ہے، البتہ ممکن ہے حالیہ ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے بولرز اپنی کارکردگی میں بہتری لے آئیں جس سے پاکستان کی مہم آگے بڑھے، یہ ٹھیک ہے کہ انگلینڈ کی پچز بیٹنگ کیلیے انتہائی سازگار ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، ریورس سوئنگ بولنگ پاکستان کا اہم ہتھیار ہوا کرتی تھی اب کیوں کارگر نہیں رہی، یہ سوال بھی غور طلب ہے۔

ایک بات طے ہو چکی کہ اظہر محمود کا بھی ٹیم کے ساتھ ٹائم پورا ہو گیا، ورلڈکپ کے بعد وہ بھی اپنے وطن انگلینڈ میں ہی مستقل مقیم رہیں گے،بولرز کی موجودہ کارکردگی دیکھتے ہوئے تو بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ جلد فارم میں آ جائیں، یہی انگلش سرزمین ہے جہاں 2 برس قبل چیمپئنز ٹرافی میں حسن علی نے سب سے زیادہ 13 وکٹیں لے کر بہترین بولر کا اعزاز حاصل کیا، عامر نے فائنل میں بھارت کیخلاف بہترین کارکردگی دکھائی۔

جنید خان نے بھی اچھی بولنگ کی تھی مگر اب یہاں کسی کی بولنگ میں کلاس ہی نظر نہیں آ رہی، البتہ بیٹسمینوں کا عمدہ کھیل قابل تعریف ہے، امام الحق، فخرزمان اور بابر اعظم تینوں سنچریاں بنا چکے ہیں، آصف علی نے اچھی پاور ہٹنگ کا مظاہرہ کیا جبکہ واپسی پر محمد حفیظ اور شعیب ملک کی بیٹنگ بھی بہتر رہی، مگر مسئلہ وہی ہے اگر آپ 400 رنز بھی بنا لیں اگر ایسی بولنگ رہی تو حریف ٹیم ہدف عبور کر لے گی۔

بدقسمتی سے فیلڈرز بھی بولرز کا ساتھ نہیں دے رہے اور متواتر مواقع ضائع کر رہے ہیں، خیر ایک مثبت بات یہ ہے کہ ایسا ورلڈکپ سے پہلے ہی ہوا، سرفرازاحمد اور مکی آرتھر کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ ٹیم کو کن مسائل کا سامنا ہے، اگر کوشش کر کے خامیاں دور کر لی جائیں تو یقینی طور پر میگا ایونٹ میں گرین شرٹس نئے روپ میں نظر آ سکتے ہیں، اس وقت تمام پاکستانیوں کی نگاہیں قومی کرکٹرز پر ہی مرکوز ہیں، وہ شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر سکتے ہیں، ہماری مکمل سپورٹ ان کے ساتھ ہے۔