English

’’یس مین‘‘ کو پہلی ’’نو‘‘ لے ڈوبی

وزیر اعظم سے ملاقات پر ہیڈکوچ اور ٹیسٹ کپتان کی سرزنش ہوئی جبکہ حفیظ سینٹرل کنٹریکٹ نہ ہونے کے سبب بچ گئے

فوٹو: اے ایف پی

’’جناب ہم پر بڑا پریشر ہے، ہزاروں کرکٹرز و دیگر آفیشلز ڈپارٹمنٹس کی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،ہم سے بھی بہت لوگ اس حوالے سے بات کرنے کا کہتے ہیں،آپ کو ان کیلیے کچھ کرنا ہوگا‘‘

مصباح الحق، محمد حفیظ اور اظہر علی نے گذشتہ کچھ عرصے میں ایک سے زائد بار غریب کرکٹرز کیلیے آواز اٹھائی مگر ہمیشہ یہی جواب ملا کہ ’’ہم کچھ نہیں کر سکتے، یہ وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ ہے ان سے بات کریں‘‘ شاید حکام کے ذہن میں ہو کہ کون سا ان کی وزیر اعظم ہاؤس تک رسائی ہو گی، مگر جب میٹنگ طے ہو گئی تو بورڈ کو اپنی اتھارٹی چیلنج ہوتی محسوس ہوئی مگر پہلے علم ہونے کے باوجود اسے ملتوی کرنے کا نہیں کہا، عمران خان صاحب نے پی سی بی کے چیئرمین اور سی ای او کو بھی بلا لیا۔

اس ملاقات کا کوئی فائدہ تو نہیں ہوا البتہ مصباح، حفیظ اور اظہر کے جلد بے روزگار ہونے کا  سب کو اندازہ ہو گیا، وزیر اعظم سابق کرکٹر بھی رہے ہیں،ان سے ملاقات پر ہیڈکوچ اور ٹیسٹ کپتان کی سرزنش ہوئی جبکہ حفیظ سینٹرل کنٹریکٹ نہ ہونے کے سبب بچ گئے، اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھاکہ ان کرکٹرز کیخلاف کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھایا جائے گا، ایسے میں جب آج صبح ایک دوست نے مصباح الحق کے مستعفی ہونے کا بتایا اور کچھ دیر بعد پی سی بی نے ان کی پریس کانفرنس  کا اعلان کیا تو مجھے خبر کی کہیں اور سے تصدیق کی ضرورت محسوس نہ ہوئی، بعد میں مصباح نے میڈیا کے سامنے ’’اچھی اچھی‘‘ باتیں کیں کیونکہ 32 لاکھ روپے ماہانہ  تنخواہ اب شاید آدھی رہ گئی ہے۔

مزید سچ بولتے تو اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے،مصباح کے بارے میں یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ  ’’یس مین‘‘ ہی رہے ہیں، دور قیادت میں کھلاڑیوں کیلیے بات نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی کرسی بچانے کی ہی کوشش ہوتی، اسی لیے بورڈ حکام کی آنکھ کا تارا بنے رہے، ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ کر موجودہ پی سی بی کے ارباب اختیار نے انھیں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا عہدہ سونپ دیا کہ قابومیں رہیں گے،اس وقت مجھ جیسے لوگوں نے شور مچایا کہ یہ فیصلہ درست ثابت نہیں ہوگا لیکن ظاہر ہے ہماری بات کون سنتا، احسان مانی اور وسیم خان نے اپنے اقدام کو بہترین قرار دیا، مگراب اپنا ہی کیا ہوا فیصلہ خود تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے، یا تو وہ اس وقت غلط تھے یا اب غلط ہیں۔

موجودہ حکام کے دور میں پی سی  بی نے کئی ایسے اقدامات کیے جس سے ان کی اہلیت پر سوال اٹھتے ہیں مگر ظاہر ہے جب تک موجودہ حکومت برقرار ہے انھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا، مصباح سے قبل اقبال قاسم کے بارے میں بھی بورڈ کا خیال تھا کہ شریف آدمی ہے قابو میں رہے گا لیکن انھوں نے بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حق میں آواز اٹھائی اور کرکٹ کمیٹی کی سربراہی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، ’’یس مین‘‘ مصباح کو  پہلی ’’نو‘‘ لے ڈوبی،جس طرح اچانک چند دیگر سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے ٹریک تبدیل کرتے ہوئے اب نئے سسٹم کی تائید کرنا شروع کر دی ہے اگر مصباح بھی ایسا کرتے تو شاید آدھی تنخواہ اور دوسری ذمہ داری سے محروم نہ ہونا پڑتا لیکن وہ جانتے ہیں کہ پی سی بی کی ملازمت عارضی ہے البتہ ڈپارٹمنٹ کی جاب بزرگی تک برقرا ر رہتی ہے ، مگر جب کرکٹ ہی نہ ہو تو کوئی ادارہ کیوں کسی کرکٹر کو ملازمت پر رکھے گا۔

بورڈ کی یہ بھی مہربانی ہے کہ انھیں خود فیصلے کا اختیار دیا ورنہ دونوں عہدے واپس لے لیتے تب بھی کون پوچھتا، ویسے مصباح خود بھی اس سلیکشن کمیٹی میں مس فٹ تھے، جو فیصل اقبال ساری زندگی انھیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے اب ان کے ساتھ کیسے کام کرتے، ویسے پی سی بی بھی کمال کرتا ہے، ایک بندہ جس کے خلاف تعلیمی سند کے حوالے سے پی آئی اے میں تحقیقات چل رہی ہیں اسے ایک ایسوسی ایشن کا کوچ بنا دیا، درمیان میں ایک دن کے لیے فیصلہ تبدیل کیا لیکن ماموں زندہ باد، جاوید میانداد کو چپ رکھنے کیلیے اگر بھانجے کو کوئی نوکری دے دی جائے تو بورڈ کیلیے یہ غلط فیصلہ نہیں ہے۔

مصباح کی مشکلات ابھی کم نہیں ہوئیں، زمبابوے سے سیریز میں تو شاید مسائل نہ ہوں لیکن اگرخدانخواستہ نیوزی لینڈ میں نتائج اچھے نہ رہے تو ان کی کوچنگ بھی خطرے میں پڑ جائے گی، موجودہ بورڈ حکام کی انا پرستی کا اندازہ کورٹ کیسز اور دیگرتنازعات سے لگایا جا سکتا ہے،انھیں اب بس ایک غلطی کا انتظار ہے۔

محمد حفیظ کا بیٹ اب تک ان کی ڈھال بنا ہوا ہے جہاں کارکردگی کا گراف نیچے آیا ان کے نام پر بھی سابق کرکٹر کا لیبل لگ جائے گا، رہی بات اظہر علی کی تو ان کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی شروع ہو چکا شاید جلد ہی انھیں کمنٹری کا شعبہ مستقل طور پر اپنانا پڑے،میڈیا اور سابق کرکٹرز کہہ کہہ کر تھک گئے تھے کہ دہری ذمہ داریوں کا مصباح الحق پر بھی بوجھ ہے، ایک کام واپس لے لینا چاہیے لیکن حکام نے توجہ نہ دی، اب جب انا کو چوٹ پہنچی تو فوراً فیصلہ ہوگیا، دیکھتے ہیں اگلا ’’یس مین‘‘ کیسے تلاش کیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ڈومیسٹک سسٹم کی تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اربوں روپے پھونکے جا رہے ہیں اسپانسرز بھی نہیں ملے، آگے بھی کوئی ڈرامائی تبدیلی ہوتی دکھائی نہیں دیتی،اگر براڈکاسٹ ڈیل سے 200ملین ڈالر نہ ملے تو کیا ہوگا؟ اقبال قاسم ہوں یا مصباح الحق آپ اس نظام کیخلاف بولنے والوں کی آوازیں بند کرائے جا رہے ہیں،ڈومیسٹک کرکٹرز پر بھی آپ نے سخت ترین ضابطہ اخلاق لاگو کر دیا، وہ بیچارے بھی اب کچھ نہیں بول سکیں گے، سابق کرکٹرز کو نوکریاں مل گئیں، موجودہ کرکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ کی وجہ سے خاموش ہیں، میڈیا کے بیشتر ’’دوستوں‘‘ نے بھی  میوٹ کا بٹن دبایا ہوا ہے، ابھی  آپ کا ٹائم ہے جو کرنا ہے کر لیں مگر کبھی غریبوں کا ٹائم بھی آئے گا تب بڑی سے بڑی سفارش بھی آپ کو نہیں بچا سکے گی۔

کرکٹ پاکستان اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔