English

پی ایس ایل کی کتنی بار’’کریش لینڈنگ‘‘ ہوگی؟

معاملات اس نہج تک پہنچے کیسے اس کو جاننے کیلیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں

پی ایس ایل کی کتنی بار’’کریش لینڈنگ‘‘ ہوگی؟ فوٹو: پی سی بی

’’آپ ایسا کریں کہ جنوبی افریقہ کا دورہ ملتوی کر کے مارچ میں ہی پی ایس ایل 6 مکمل کرا دیں‘‘

میٹنگ میں جب ایک فرنچائز اونر نے یہ بات کہی اور دیگر تمام نے بھی سر ہلا کر تائید کر دی تو پی سی بی حکام انھیں حیرت سے گھورنے لگے، ’’یہ کیسے ممکن ہو گا دورہ اب چند دن ہی دور ہے، انھوں نے تمام تیاریاں کر لی ہوں گی، ان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا‘‘۔

ایک آفیشل کا یہ جواب سن کر فرنچائز اونر نے جل بھن کر کہا کہ ’’جب اپنے ہی گھر میں آگ لگی ہو تو دوسروں کا نہیں سوچتے، آپ کو ہمارے نقصان کی کوئی پروا نہیں اورجنوبی افریقہ کی فکر کررہے ہیں‘‘ یہ سن کر پی سی بی کی ایک اعلیٰ شخصیت نے کہا کہ ’’اچھا ہم ان سے بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘

چند دن قبل جب یہ تفصیلات مجھے کچھ دوستوں نے بتائیں تو میں سمجھا شاید وہ مذاق کر رہے ہیں مگر پھر تصدیق بھی ہو گئی، قومی ٹیم کیلیے چارٹرڈ فلائٹ کی بکنگ ہو چکی ہے، تمام تیاریاں مکمل ہیں ایسے میں سیریز کیسے ملتوی ہو گی؟ مجھے تو اس کی کوئی منطق نہیں نظر آئی پی سی بی سے پوچھا ان کی بھی یہی رائے تھی، میں نے کرکٹ جنوبی افریقہ سے رابطہ کیا تو ادھر سے بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا، گوکہ پاکستان بھی سیریز ملتوی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر معاملہ اس وقت سنجیدہ ہونے لگا جب ایک ٹیم اونر نے از خود اعلیٰ شخصیات سے رابطہ کر کے مارچ میں میچز کیلیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی حاصل کر لی۔

انھوں نے پنجاب حکومت سے بھی تعاون کا وعدہ لے لیا اورایک ہوٹل کی مکمل بکنگ کیلیے بھی معاملات طے کر لیے، اب پی سی بی سٹپٹایا،جنوبی افریقہ ویسے ہی آسٹریلیا کے رویے سے جلا بھنا بیٹھا ہے جس نے آخری لمحات میں کوروناکو جواز بنا کرٹور ملتوی کردیا تھا،اب پاکستان نے بھی ایسا کیا تو باہمی تعلقات خراب ہو جائیں گے، صورتحال کو کیسے سنبھالیں؟آخرکار بورڈ نے نہ تمہارا نہ ہمارا والی پالیسی کے تحت مارچ کے بجائے جون کی چمچماتی ہوئی گرمیوں میں میچز پر آمادگی ظاہر کردی، ویسے تو ستمبر یا نومبر کی ونڈوز مناسب لگ رہی تھیں مگر پہلے ہی بھاری نقصانات کے بوجھ تلے دبی فرنچائزز جلد از جلد چھٹے ایڈیشن کی تکمیل چاہتی ہیں تاکہ آمدنی سے کچھ حصہ مل سکے۔

معاملات اس نہج تک پہنچے کیسے اس کو جاننے کیلیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، یہ سیدھا سیدھا بورڈ کی غفلت کا کیس ہے، حکومتی سطح پر اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ مسلسل دوسرے برس کیوں پی ایس ایل کو درمیان میں روکنا پڑا، نیوزی لینڈ جانے والے پلیئرز نے کیوں بائیو سیکیور ببل کی خلاف ورزی نہیں کی تھی؟کیوں سری لنکن لیگ، آئی پی ایل یا ٹی10 میں ایسے واقعات نہیں ہوئے؟ وجہ ان کے انتظامات تھے،آپ بھی سبق سیکھ سکتے تھے لیکن تکبر کی وجہ سے جب انسان کی گردن میں سریا آ جائے تو وہ نیچے نہیں دیکھ پاتا، نہ ہی اپنے سامنے کسی کو کچھ سمجھتا ہے، اسے لگتا ہے کہ سارا نظام اسی کی وجہ سے چل رہا ہے، پھر جب ٹھوکر کھا کر اچانک نیچے گرے تو سارا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔

پیسہ اور طاقت اچھی اور بْری دونوں چیزیں ہیں،زیادہ آ جائیں تو انسان خود کو سنبھال نہیں پاتا،کم ہوں تو سنبھل نہیں سکتا، پی سی بی نے کل کل کے بچوں کو پی ایس ایل کے معاملات سونپ دیے جو غیرملکی کرکٹرز کو پاکستان لا کرخود کی ایسے مارکیٹنگ کرتے ہیں جیسے نجانے کون سا تیر مار لیا ہے، بھائی آپ نے لیاقت آباد کرکٹ کلب کی لالوکھیت کرکٹ لیگ کیلیے کرس گیل یا ٹام بینٹن کو نہیں بلایا، وہ پی سی بی اور پی ایس ایل کے نام پر آتے ہیں، اس میں آپ کا کوئی کمال نہیں، اسی طرح مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کا ہمیشہ سے ہی آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے،چند برس کیلیے کوئی آتا ہے اپنے تعلقات اور پروفائل بنا کر چلا جاتا ہے، پی سی بی کے کمرشل ڈائریکٹر بابر حامد کو حالات کے ’’ٹھنڈا گرم‘‘ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کا کام تو چل رہا ہے۔

مگر کاش کوئی ان سے پوچھے جناب یہ پی ایس ایل کے ساتھ آپ نے کیا کیا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں کا کریڈٹ لینے والے بورڈ حکام اب کہاں غائب ہیں، آئیں میڈیا کے سامنے غلطیاں تسلیم کریں،چیئرمین احسان مانی کے پاس مستقل برطانوی شہریت کا اجازت نامہ ہے جبکہ سی ای او وسیم خان تو پورے برٹش ہیں، دونوں نے بورڈ میں کارپوریٹ کلچرلانے اور اصول پسندی کی بڑی باتیں کیں مگرپی ایس ایل میں جو ہوا اس کے بعد کیوں عہدے نہیں چھوڑے؟ کہاں گئی اصول پسندی؟ جب اپنے فائدے ہوں تو کارپوریٹ کلچر اور جب نقصان ہونے لگے تو پاکستانی بن کر سوچنے لگتے ہیں۔

بائیو ببل کی ناکامی پر ڈاکٹر سہیل سلیم کو بالکل بھی عہدے پر رہنے کا حق نہیں تھا لیکن کیااکیلے ان پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے بالکل بھی نہیں، دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی اپنے فرائض مناسب انداز میں نہ انجام دینے پر قصوروار ہیں،ویسے سنا ہے کہ پشاور زلمی کے وہاب ریاض اور ڈیرن سیمی کو بائیو ببل کی خلاف ورزی پر قبل از وقت قرنطینہ سے باہر آنے سے اجازت ملنے پر ہی ڈاکٹر سہیل سلیم نے اختلافی نوٹ لکھ کر اپنے لیے حالات مشکل بنا دیے تھے، اب کیا گارنٹی ہے کہ موجودہ بورڈ حکام کی موجودگی میں آئندہ ایسے مسائل نہیں ہوں گے؟

حکومت اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہے اسے کرکٹ کی کوئی فکر نہیں، بورڈ تو فرنچائزز سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا اب تو سب سر جھکا کر مشاورت کر رہے ہیں، مگر ایسا صرف تھوڑے دن ہی چلے گا ابھی پھر پی ایس ایل شروع ہو گی اورلوگ سب کچھ بھول جائیں گے، ایونٹ ختم ہونے پر پھر عثمان واہلہ اور عمران احمد خان کے منیجر لیول کے لوگ اونرز کو ڈیل کریں گے۔

آپ بتائیں کہ کیا مکمل ہوٹل بک کرانا، بائیو سیکیور انتظامات کیلیے غیرملکی کمپنی کی خدمات لینا یا ایسے چند دیگر اقدامات پہلے نہیں اٹھائے جا سکتے تھے؟ جب آپ طاقتور کو چھوڑ دیں گے اور کمزوروں پر اپنا زور چلائیں گے تو ایسا ہی ہو گا،آپ نے تحقیقاتی کمیٹی میں بھی دو ڈاکٹرز کو لیا، دیگر شعبوں کے افراد کو بھی شامل کرتے تاکہ کوئی ایسی رپورٹ تو سامنے آتی جس کا فائدہ ہوتا لیکن ظاہر ہے ملبہ ڈاکٹر پر گرانا تھا تو ڈاکٹرز کی کمیٹی بنائی جو بائیو ببل میں خرابیوں کی نشاندہی کریں گے،لوگ دوسروں کی خوبیوں سے سیکھتے ہیں۔

افسوس آج آئی سی سی یہ بات کر رہی ہے کہ ہم ’’پی ایس ایل کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ورلڈکپ کرائیں گے‘‘، پاکستان میں اتنے عرصے بعد ایک بڑا برانڈ بنا افسوس نااہل پائلٹس کی موجودگی میں بار بار اس کی کریش لینڈنگ ہو رہی ہے، اب مزید کتنی بار بچتے ہیں اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

کرکٹ پاکستان اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔