news
English

بے اختیار کرکٹ بورڈ  

پی ایس ایل سر پر ہے اور ابھی تک شیڈول ہی جاری نہیں ہوا، ٹی وی اور میڈیا رائٹس کی فروخت بھی نہیں ہوسکی۔

بے اختیار کرکٹ بورڈ  

’’یہ حارث رؤف کو کیا ہو گیا‘‘ 
اسٹیڈیم میں موجود تمام لوگ اور ٹی وی پر بگ بیش میچ دیکھنے والے شائقین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بیٹسمین نے پیڈز ہی نہیں پہنے تھے، گلوز بھی ہاتھ میں موجود اور حارث کا انھیں بھی پہننے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا، دراصل ٹیم کی یک بعد دیگرے وکٹیں گرنے سے انھیں تیار ہونے کا وقت ہی نہیں ملا، چونکہ وہ نان اسٹرائیک اینڈ پر موجود تھے اور آخری گیند ہونا تھی لہذا بغیر پیڈز کے گراؤنڈ میں آ گئے، البتہ یہ نہیں سوچا کہ اگر نوبال ہوئی اور سنگل لینا پڑا تو پھر کیا کریں گے؟
خیر یہ نوبت نہ آئی اور حارث بغیر کوئی گیند کھیلے ناٹ آؤٹ پویلین واپس چلے گئے، اس صورتحال کا اگر آپ جائزہ لیں تو پی سی بی کے حالات سے کسی حد تک مماثلت نظر آتی ہے، یہاں ذکا اشرف تو بغیر بیٹ کے ہی بیٹنگ کے لیے آگئے ہیں، رن ریٹ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ 
چیلنجز کا پہاڑ ہے، وہ کیسے ٹیم کو منزل تک پہنچائیں گے کوئی سہارا نظر نہیں آتا، تمام ساتھی کھلاڑی ان کی کپتانی کو پسند نہیں کرتے اور سابق کپتان کی ٹیم میں واپسی چاہتے ہیں اس لیے تعاون نہیں کررہے، امپائرز بھی چاہتے ہیں کہ یہ جلد آؤٹ ہوجائیں، وہ رنز بنا رہے ہیں نہ اننگز ڈیکلئیرڈ کر رہے ہیں،اس وقت تو یہی صورتحال ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات کا صرف اور صرف پاکستان کرکٹ کو ہی نقصان ہو رہا ہے۔ 
پی ایس ایل سر پر ہے اور ابھی تک شیڈول ہی جاری نہیں ہوا، ٹی وی رائٹس کی فروخت بھی نہیں ہوسکی، فرنچائزز اپنے بال نوچ رہی ہیں کہ ہم کہاں پھنس گئے، پہلے مالکان رمیز راجہ سے تنگ تھے اب ان کو یاد کرتے ہیں،ان دنوں ٹی 10 لیگ کی بات ہو رہی ہے، پہلے پی ایس ایل کو تو سنبھالیں پھر اس کا سوچنا چاہیے، ویسے بھی مجھے نہیں لگتا کہ حکومت موجودہ کرکٹ انتظامیہ کو اتنا بڑا کوئی پراجیکٹ شروع کرنے کی اجازت دے گی۔ 
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اصل مسئلہ میڈیا رائٹس کا ہے جو 10 سے 12 ارب میں فروخت ہونے ہیں، اتنی بڑی رقم دیکھ کر اچھے اچھوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے، سب چاہتے ہیں کہ یہ کام ہم کریں، ذکا اشرف کا کمزور پوائنٹ الیکشن نہ کرانا ہے،وہ اس کی وجہ کورٹ کیسز کو قرار دیتے ہیں مگر کب تک الیکشن کو ٹالا جا سکے گا؟ ان کے پاس 3 فروری تک کا وقت ہے۔ 
اب ایک فیصد بھی امکان نہیں کہ دوبارہ توسیع ملے، آئی پی سی منسٹری کے نئے حکام کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں سب کو پتا ہے، ذکا اشرف کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، انھیں روز مرہ امور تک محدود تو پہلے ہی کیا جا چکا اب سختی سے اس پر عمل بھی ہونے لگاہے، پی ایس ایل کے ٹی وی رائٹس کی فروخت کو روک کر ذکا اشرف سے کہا گیا کہ ہر فیصلے سے پہلے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم سے منظوری لیں۔ 
اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اب وہ کوئی کام نہیں کرسکیں گے، ہرفائل پی ایم ہاؤس لے کر جاتے رہے تو 3  فروری تک شاید ہی کچھ ہو سکے، پی ایس ایل تو شروع ہی 17 فروری کو ہونا ہے، ایسے میں نئے چیئرمین کو بھی طوفانی رفتار سے کام کرنا پڑیں گے، ذکا اشرف کسی کا تقرر یا برطرف بھی نہیں کر سکتے، ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی کو سابق ایم سی سربراہ نجم سیٹھی نے سائیڈ لائن کیا۔ 
ذکا اشرف نے بھی انھیں لفٹ نہ کرائی، کمرہ نہ ملنے پر ناراض ہو کر انھوں نے دفتر آنا چھوڑ دیا مگر تنخواہ ملتی رہی، جب کبھی ان کو بر طرف کرنے کی بات ہوتی تو سی او او سلمان نصیر مضبوط دفاعی ڈھال بن کر کھڑے ہوجاتے، جب چیئرمین نے تنگ آ کرسمیع کو رواں ماہ مستعفیٰ ہونے یا برطرفی کا آپشن دیا تو انھوں نے کچھ وقت مانگا اور پھر انکار کردیا، جب انھیں نکال دیا گیا تو کورٹ سے ریلیف لے لیا کیونکہ ذکا اشرف کے پاس کسی کو برطرف کرنے کا اختیار ہی نہ تھا،ان کے وکیل پی سی بی کے ہی سابق مشیر تھے۔ 
کس نے سمیع کے لیے ان سے رابطہ کیا یہ جاننے کے لیے ذکا اشرف کو اپنے اردگرد ہی نظر دوڑانا پڑے گی، یہ ٹیسٹ کیس ثابت ہوا اور اب پی سی بی کے تمام ملازمین شیر بن چکے، وہ جانتے ہیں کہ اب کوئی نوکری سے نہیں نکال سکتا اس لیے اطمینان سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر تین فروری کا انتظار کر رہے ہیں، بورڈ کے 95 فیصد ملازمین موجودہ سربراہ کے مخالف ہیں، بعض سینئرز رویے کی شکایت بھی کرتے نظر آئے۔ 
سری لنکا میں ایشیا کپ کے دوران ’’ڈائٹ کوک‘‘ نے بڑا تماشہ کھڑا کیا، چلیں پرانے ملازمین کا توسمجھ آتا ہے مگر جنھیں ذکا اشرف لے کر آئے وہ بھی اب آنکھیں دکھا رہے ہیں، پی ایس ایل کے ڈائریکٹر صہیب شیخ سے جب ڈرافٹ میں بد انتظامی پر استفسار کیا گیا تو وہ غصے میں آ کر دفتر سے چلے گئے، پھر معافی مانگنے پر واپسی ہوسکی۔ 
لیگ کمشنر نائلہ بھٹی بھی اکثر روٹھ جاتی ہیں، لیگل میں ڈائریکٹر کے آنے پر اریبہ مستعفی ہو چکیں، میڈیا میں اپنے ہی لائے ہوئے عمر فاروق کالسن پر ذکا اشرف کا اعتماد چند دنوں میں ہی ختم ہوگیا،اب عالیہ رشید بطور ڈائریکٹر کام کررہی ہیں، اعلیٰ حکام سے ملاقات میں ذکا اشرف کو صاف بات کرنی چاہیے کہ اس طرح تو وہ کام نہیں کرسکتے۔ 
اختیارات دیں یا پھر کسی اور کا تقرر کریں،وہ ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں، کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں مگر ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں رنگ میں فائٹ کے لیے بھیجا گیا ہے، انھوں نے بھی اپنے آپ کو اس جھمیلے میں پھنسایا ہوا ہے۔ 
دوسرا آپشن یہ ہے کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر کے از خود مستعفی ہو جائیں، وہ خود بھی موجودہ صورتحال سے خوش نہیں ہوں گے، ایسے میں کچھ تو کرنا ہی پڑے گا، ورنہ ہماری کرکٹ کو مزید نیچے جانے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)