news
English

چیف سلیکٹر اور برطانوی کمپنی

پی سی بی کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے کوئی بڑا سابق کرکٹر نہیں مل رہا جسے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپی جائے۔

چیف سلیکٹر اور برطانوی کمپنی

’’کیا آپ کو پتا ہے کہ انضمام الحق کے پلیئرز ایجنٹ کی کمپنی میں شیئرز ہیں‘‘ جب مجھے کسی نے یہ بتایا تو میرا جواب تھا اس میں کون سی راز کی بات ہے سب جانتے ہیں کہ طلحہ رحمانی برسوں سے انضمام کے بھی منیجر ہیں مگر شیئرز والی بات کو ثابت کیسے کریں۔؟ 
یہ سننے کے بعد مجھے جواب ملا کہ ’’یہی تو صحافیوں کا مسئلہ ہے کوشش اور تحقیق نہیں کرتے بنی بنائی خبریں واٹس ایپ پر چاہیئں،خیر آپ کو تو میں اس فہرست میں شامل نہیں کرتا، البتہ ایک اشارہ دیتا ہوں،برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر جا کر ’’یازو انٹرنیشنل‘‘ لکھیں تمام تفصیلات مل جائیں گی‘‘ میں نے ایسا ہی کیا تو جو تفصیلات سامنے آئیں وہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ 
اس کمپنی میں انضمام الحق، محمد رضوان اور طلحہ رحمانی کے 25،25 فیصد شیئرز ہیں، انضمام کے بھائی بھی کمپنی کا حصہ ہیں، میں نے طلحہ کو فون کر کے موقف لیا اور خبر شائع کر دی،اگلے دن تہلکہ مچ گیا،چونکہ قومی ٹیم نے ورلڈکپ میں اچھا پرفارم نہیں کیا، مسلسل 4 میچز میں شکست بھی ہوئی،اس سے شائقین ناراض ہیں اس لیے بات زیادہ بڑھی، میں نے صرف حقائق لکھے تھے تانے بانے لوگ خود ملانے لگے۔ 
کئی سابق کرکٹرز نے بھی مجھ سے فون پر تفصیلات پوچھیں، یوں یہ ایک بڑا ایشو بن گیا، اب میں آپ کو تھوڑا پیچھے لے کر جاتا ہوں، ٹیم ورلڈ کپ کیلیے بھارت جانے کی تیاری کر رہی تھی مگر کھلاڑیوں کی توجہ سینٹرل کنٹریکٹ میں معاوضے بڑھوانے اور آئی سی سی کی آمدنی سے شیئر لینے پرتھی۔ 
ایسا ہر سال ہوتا ہے لیکن اس بار معاملہ زیادہ سنگین نظر آیا، کرکٹرز نے ورلڈکپ شرٹ میں اسپانسر لوگو کو چھپانے اور آئی سی سی کی کمرشل سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے تک کی دھمکی دے دی، پاکستان میں پلیئرز ایسوسی ایشن تو ہے نہیں، بابر،رضوان اور شاہین سمیت کئی کرکٹرز کے ایجنٹ طلحہ ہی ان کے لیے بورڈ سے بات کرتے ہیں۔
 
ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ سے معاملہ ہینڈل نہیں ہوا، ایسے میں ایک دن انضمام الحق نے چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف کو 48 گھنٹے میں مسئلہ حل کرنے کی پیشکش کر دی، وہ فورا مان گئے، پھر انضمام اگلے روز بابر اعظم کو ذکا اشرف کے گھر لے کر پہنچ گئے، وہاں معاوضے بڑھانے اور آئی سی سی کی آمدنی سے تین فیصد حصہ بھی دینے پر اتفاق ہوگیا، میں نے اسی وقت ٹویٹ کی تھی کہ انضمام نے بورڈ کے ملازم نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے ایجنٹ کا کام کرتے ہوئے مطالبات منوالیے، اب یازو انٹرنیشنل کا معاملہ سامنے آنے سے سینٹرل کنٹریکٹ پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ 
طلحہ کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی کوویڈ کے دنوں میں بنی اور اس وقت انضمام چیف سلیکٹر بھی نہیں تھے، یہ تو ٹھیک ہے لیکن پھر انضمام نے  چیف سلیکٹر بنتے وقت بورڈ کو یہ بات کیوں نہیں بتائی، جب سینٹرل کنٹریکٹ کا مسئلہ حل کرانے کا کہا تب کیوں نہیں بتایا کہ میں طلحہ اور رضوان کے ساتھ ایک کمپنی کا بھی مالک ہوں۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ کرکٹرز کی مینجمنٹ کمپنی سایا کارپوریشن میں انضمام کے شیئرز نہیں ہیں مگر یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ سایا کے بانی اور سی ای او طلحہ رحمانی ہی ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ بورڈ کے سربراہ کو یہ باتیں کوئی نہیں بتاتا،اس وقت 80 فیصد سینئر اسٹاف ان کے خلاف ہی کام کر رہا ہے، جس بڑے آفیشل کو سارے کام کرنا ہوتے ہیں وہ خود سابقہ مینجمنٹ کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ 
میڈیا میں بھی ان کو درست مشورے نہیں مل رہے جس کی وجہ سے پے در پے غلطیاں سامنے آرہی ہیں، اب انضمام خود مستعفی ہوچکے مگر ساتھ ہی واپسی کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے، گھر بیٹھے 25 لاکھ روپے ماہانہ کسے برے لگتے ہیں، یہ تو میں آپ کو ایک خبر میں بتا ہی چکا ہوں کہ  مینجمنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں انضمام الحق نے 25 لاکھ ماہانہ معاوضے،ڈالر میں ادائیگی، چار سالہ معاہدے اور6 ماہ کے نوٹس پیریڈ کا مطالبہ کیا تھا۔ 
تین سالہ کنٹریکٹ کے ساتھ ان کی تمام باتیں مان لی گئی تھیں، اب اس کیس کی انکوائری شروع ہو چکی ہے، پی سی بی نے 5 رکنی کمیٹی بنائی ہے، وہ ایک ہفتے میں سفارشات پیش کرے گی، دلچسپ بات یہ ہے کہ انضمام کو بلایا ہی نہیں جائے گا کیونکہ سب جانتے ہیں وہ آئیں گے ہی نہیں، اس سے پہلے انضمام نے 3 بار مختلف وجوہات کی بنا پر مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی، اب پہلی بار عمل بھی کر لیا کیونکہ خود پھنس گئے ہیں۔ 
پی سی بی کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے کوئی بڑا سابق کرکٹر نہیں مل رہا جسے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپی جائے اسی لیے انضمام کے ناز نخرے برداشت کیے جاتے رہے، سچ بتائیں کیا پاکستان میں سلیکشن کا کام مشکل ہے؟ 15 میں سے 12 کرکٹرز تو پان والا بھی بتا دے گا، 2،3 پلیئرز کا ہی مسئلہ ہوتا ہے، انضمام کو امام الحق کی وجہ سے بھی ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہ اپنے سابقہ چیف سلیکٹر والے دورمیں بھتیجے کو آؤٹ آف ٹرن قومی ٹیم میں لے کر آئے تھے۔ 
عابد علی جیسے پلیئرز کو ان کی وجہ سے طویل عرصے اسکواڈ سے دور رکھا گیا،اس بار انضمام ٹیم کے جاتے ہی بھارت  پہنچ گئے تھے، ٹیم کی پریکٹس میں بھی جاتے رہے جس کا کوچز نے برا منایا، پلئینگ الیون کی سلیکشن میں بھی انھوں نے بن مانگے ’’مشورے‘‘ دیے،عموما چیف سلیکٹر کو اس عمل سے دور ہی رکھا جاتا تھا۔ 
ورلڈکپ اسکواڈ آپ سب کے سامنے ہے اسی لیے سوال بھی اٹھ رہے ہیں، پلیئرز ایجنٹس کے معاملات بھی زیربحث آ چکے، ناکامی سے کچھ مثبت چیزیں بھی ہوتی ہیں، آپ کو غلطیوں کا جائزہ لینے اور بہتری کا موقع ملتا ہے، اب ٹیم کا ورلڈکپ سیمی فائنل کھیلنا مشکل ہے، واپسی کے بعد سابق عظیم کرکٹرز کی میٹنگ میں تمام اسباب کا جائزہ لینا چاہیے، پھر آپریشن کلین اپ کریں تاکہ اگلے سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل مسائل ختم نہیں تو کم ہی ہو جائیں، دیکھتے ہیں اس بار کڑوے گھونٹ پیے جاتے ہیں یا پھر مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر لمبی تان کر سونے کو ترجیح دی جائے گی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)