news
English

چیف سلیکٹر کی دوستی یاری پڑگئی بھاری  

ایسا تاثر نہ دیں کہ ایک سخت گیر ہیڈ ماسٹر آ گیا ہے اب سب کی خوب خبر لے گا۔

چیف سلیکٹر کی دوستی یاری پڑگئی بھاری  

اگر آپ پوچھیں کہ میرے صحافتی کیریئر کا بدترین لمحہ کون سا ہے تو میں ایک منٹ کا انتظار کیے بغیر بتا دوں گا کہ وہ دن جب پاکستانی کرکٹرز کو لندن میں سزا ہوئی، میں ان دنوں انگلینڈ گیا ہوا تھا۔ 
ایک دن اچانک اسپاٹ فکسنگ کیس کی کارروائی دیکھنے کیلیے کراؤن کورٹ جانے کا ارادہ کر لیا، اتفاق سے اسی دن تینوں کھلاڑیوں کو سزائیں سنائی گئیں اور پولیس کی گاڑی میں جیل بھیج دیا گیا، جب میں عدالت سے باہر آیا تو وہاں موجود گورے اور بھارتی صحافیوں کو پاکستان کا مذاق اڑاتا پایا، اس دن غصے اور افسوس کے عالم میں واپس گیا۔ 
بلاشبہ 2010-11 پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین سال تھا، اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں اس وقت قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ،محمد آصف اور محمد عامر کو جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، وہاب ریاض کو بھی اپنے ’’جیکٹ‘‘ کی وجہ سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان پر کوئی الزام عائد نہیں ہوا،13 سال بیت گئے آج بھی یہ سب باتیں کل کا ہی قصہ لگتی ہیں، میں تو انھیں فراموش نہیں کر پایا لیکن افسوس دیگر بھول گئے، وہاب ریاض نے چیف سلیکٹر بننے کے بعد اپنی ٹیم میں سلمان بٹ کو بھی بطور مشیر شامل کرلیا، طویل عرصے بعد انھیں پاکستانی کرکٹ سیٹ اپ میں شمولیت کا موقع ملا، یقینا ہر انسان غلطیاں کرتا ہے اور اسے سزا بھی ملتی ہے، دوسرا موقع سب کو ملنا چاہیے لیکن سلمان کا معاملہ مختلف تھا۔
 
انھوں نے برسوں یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ فکسنگ میں ملوث رہے تھے،پھر جب مانے تب بھی انداز معذرت خواہانہ نہ تھا،کرکٹ ان کی روزی روٹی ہے، وہ ٹیلی ویژن چینلز پر تبصروں سے اچھی خاصی رقم کما لیتے ہوں گے، ساتھ میں کوئی اورکام بھی کر سکتے ہیں لیکن سلیکشن مشیر بنا کر ہم اپنے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ کوئی سزا یافتہ فکسر کیسے کرکٹرز کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا تھا؟ محمد حفیظ ساری زندگی ’’سزا یافتہ کرکٹرز کے ساتھ نہیں کھیلوں گا‘‘ کا راگ الاپتے رہے، وہ کیسے سلمان بٹ کے سلیکٹر بننے پر تیار ہو گئے؟ 
انھوں نے تو گذشتہ دنوں یہ تک کہا تھا کہ ’’میں نے عامر کو فون کر کے ریٹائرمنٹ واپس لے کر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی ہدایت دی‘‘ کہاں گئے وہ اصول؟ یقینا لوگ یہ کہنے پر حق بجانب تھے، سب کی طرح میرے ذہن میں بھی ایسے سوال آئے لیکن جلد ہی ان کا جواب مل گیا، حفیظ اپنے امیج کے حوالے سے خاصے محتاط ہیں، انھوں نے سلمان کی تقرری پر بھرپور احتجاج کیا، اعلان والے دن اور پھر اگلے روزاعلیٰ حکام کو کئی کالز کیں، یہ خطرہ تک ہو گیا تھا کہ کہیں وہ ٹیم کو چھوڑ کر وطن واپس نہ آ جائیں لیکن پی سی بی نے سلمان بٹ کے تقرر کا فیصلہ واپس لے کر بحران کو ٹال دیا۔
 
اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی اس تقرری کو پسند نہیں کیا تھا، حفیظ نے پہلے ہی وہاب کو خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کرنا بڑا مسئلہ ہو جائے گا لیکن وہ نہ مانے، ویسے بھی وزیر یا مشیر وہ جو بھی ہیں اس نے ’’کرسی‘‘ کی طاقت ان پر حاوی کردی ہے، اب چیف سلیکٹر بھی بن گئے ہیں، جس طرح وہ میڈیا کانفرنس میں کرسی پر جھوم رہے تھے،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں غلطی پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا،انھوں نے اپنی دوستی کو ترجیح دیتے ہوئے سلمان کوذمہ داری سونپی،ایک اور رکن کامران اکمل پر بھی کیریئر میں کئی بار الزامات عائد ہوئے لیکن کبھی کچھ ثابت نہیں ہو سکا،تیسرے مشیر راؤ افتخار انجم کوچ بھی ہیں۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی کمی ہو گئی کہ آپ کو ایسے سلیکشن کنسلٹنٹ بنانا پڑے جن پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہتیں، ہم بابر اعظم کو طعنے دیتے رہے کہ  بطور کپتان دوستی یاری نبھائی لیکن پاکستان میں تو کلچر ہی یہی ہے، ذکا اشرف شریف انسان ہیں، وہ جسے ذمہ داری سونپیں پھر اس کے کام میں دخل نہیں دیتے اور اسے اپنی ٹیم بنانے کا بھی پورا موقع دیا جاتا ہے، انھوں نے محمد حفیظ اور وہاب ریاض دونوں کو فری ہینڈ دیا جس کی وجہ سے ایسے فیصلے سامنے آئے، البتہ لوگوں کو حقائق کا علم نہیں ہوتا وہ تو سب کچھ چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی کے کھاتے میں ہی ڈال رہے ہوتے ہیں۔
اس لیے انھیں ہر معاملے کو خود بھی دیکھنا چاہیے، آپ ٹیم مینجمنٹ بھی دیکھ لیں، ضد کر کے 18 کرکٹرز کے ساتھ 17 افراد کی منظوری لی گئی، سائمن گرانٹ ہیلموٹ نے ایسے کون سے تیر مارے کہ انھیں ہائی پرفارمنس کوچ کا عہدہ مل گیا، شاہد اسلم اور منصور رانا کی نجانے کیا قابلیت ہے کہ کبھی منیجر کبھی نائب کوچ، کبھی بیٹنگ کوچ تو کبھی اسسٹنٹ ٹیم منیجر بن جاتے ہیں، جب نوید اکرم چیمہ منیجر بن گئے تو ان کے نائب کی کیا ضرورت تھی؟ ان میں سے بیشتر آفیشلز محمد حفیظ سے قربت رکھتے ہیں، ان کیلیے بہت بھاری بھرکم پیکیج تیار کیا جا رہا ہے، وہ خود کہہ چکے ہیں کہ نتائج کی ذمہ داری بھی لیں گے لیکن یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، کیا ہم ایسی فضول خرچی افورڈ کر سکتے ہیں۔ 
کھلاڑی این او سی کے معاملے پر ناخوش ہیں، میں اس بات کے حق میں ہوں کہ پہلی ترجیح ملک کو ہی دینی چاہیے لیکن آپ حارث رؤف سے کیسے یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں وکٹیں اڑائیں گے، انھوں نے ایک سال سے کوئی چار روزہ میچ نہیں کھیلا، ورلڈکپ میں 10 اوورز کر کے ہانپنے لگتے تھے، چلیں آپ ان سے دن میں 10 اوورز ہی کرائیں گے باقی 80 اوورز فیلڈنگ بھی تو کرنا پڑے گی، حارث ٹی ٹوئنٹی کے ہی بولر ہیں، زور زبردستی سے آپ ٹیسٹ کھلا تو لیں گے مگر پرفارمنس کیسے سامنے لائیں گے۔ 
اب انھیں نشان عبرت بنانے کیلیے بگ بیش کا این او سی بھی روک لیا، دیگر کھلاڑیوں کو بھی لیگز کی اجازت نہیں دی جا رہی، اچھا ہے حفیظ نے اپنی غلطیوں سے خود سبق سیکھ لیا،ورنہ 2021 میں ٹی10 لیگ ایک دن پہلے چھوڑ کر آنے کے معاملے پر ان کا بورڈ سے اختلاف ہوا اور انھیں جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز سے باہر ہونا پڑا تھا،2019 میں حفیظ کا ٹی 10 لیگ کے این او سی پر ہی پی سی بی کے ساتھ تنازع ہوا تھا، کھلاڑی ملک کا اثاثہ ہیں،ان کے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے۔ 
ایسا تاثر نہ دیں کہ ایک سخت گیر ہیڈ ماسٹر آ گیا ہے اب سب کی خوب خبر لے گا، سلیکٹرز،کوچز اور مینجمنٹ میں شامل بیشتر افراد کو کرکٹ چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گذرا انھیں اپنا وقت یاد رکھتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، اسی صورت میں ٹیم کا ماحول اچھا رہے گا اور مثبت نتائج سامنے  آسکیں گے،ابھی پہلی آزمائش تو دورہ آسٹریلیا ہے،امید یہی کی جانی چاہیے کہ ٹیم وہاں اچھا پرفارم کرے گی۔ 
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)