news
English

ڈومیسٹک ایونٹس، غیر ملکی کرکٹرز کیلیے بھی دروازہ کھل گیا

ایونٹ کے ہر میچ میں فاتح ٹیم کو16پوائنٹس ملیں گے،سلواوورریٹ پر جرمانوں کا نیا فارمولا جاری

ڈومیسٹک ایونٹس، غیر ملکی کرکٹرز کیلیے بھی دروازہ کھل گیا PHOTO: Tahir Jamal

پی سی بی نے غیر ملکیوں کیلیے بھی ڈومیسٹک کرکٹ کا دروازہ کھول دیا جب کہ ہر صوبائی ایسوسی ایشن بورڈ کی اجازت سے کسی ایک کھلاڑی کی خدمات حاصل کرسکے گی۔

پی سی بی نے نئے اسٹرکچر کے تحت ڈومیسٹک سیزن کیلیے پلیئنگ کنڈیشنز متعارف کرا دیں،کوالیفیکیشن قوانین کی شق 1.2کے مطابق کوئی بھی کرکٹر سیزن میں صرف ایک ہی ایسوسی ایشن کی جانب سے کھیلنے کا پابند ہوگا، منتخب کردہ تمام 32 کھلاڑیوں کو ایسوسی ایشن اپنی فرسٹ یا سیکنڈ الیون میں شامل کرنے کی مجاز ہوگی، انڈر 19 کرکٹرز بھی اپنی متعلقہ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ یا سیکنڈ الیون کی جانب سے کھیل سکتے ہیں۔

ایسوسی ایشن منتخب کردہ 32 کرکٹرز کے علاوہ کسی ایک غیرملکی کھلاڑی کو اسکواڈ میں شامل کرسکے گی، اس کیلیے پی سی بی کی اجازت درکار اور مہمان کرکٹر کو اپنے بورڈ سے این او سی بھی حاصل کرنا ہوگا، ایسوسی ایشن کو ایک ماہ قبل ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز ڈپارٹمنٹ کو درخواست دینا ہوگی۔ فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ کیلیے پوائنٹس سسٹم میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

فاتح ٹیم کو 16 پوائنٹس دیے جائیں گے، میچ ٹائی ہونے کی صورت میں دونوں ٹیموں کو 9،9 پوائنٹس ملیں گے، ڈرا پر دونوں ٹیموں کو 5،5 پوائنٹس پر اکتفا کرنا ہوگا، پہلی اننگز میں بیٹنگ اور بولنگ کے شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر بھی پوائنٹس کی تقسیم ہوگی۔

اس کا طریقہ کار واضح کردیا گیا ہے، کم از کم 110 اوورز کھیلنے کی صورت میں پہلی اننگز میں بیٹنگ میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر پوائنٹس تقسیم ہوں گے، 200رنز پر ایک، 250 رنز پر 2 ، 300پر 3 ،350 رنز پر 4 اور 400 رنز پر 5 پوائنٹس ملیں گے، پہلی اننگز میں بولنگ میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر بھی پوائنٹس حاصل ہوں گے، 3 وکٹ پرایک، 6 وکٹ پر 2، 9 وکٹ پر 3 پوائنٹس دیے جائیں گے۔

9 سے 13 دسمبر تک نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شیڈول قائداعظم ٹرافی کا فائنل ڈرا ہونے کی صورت میں فاتح کا فیصلہ پہلی اننگز میں کارکردگی پرحاصل کیے گئے پوائنٹس کی بنیاد پر کیا جائیگا، اگر دونوں ٹیموں کے درمیان پہلی اننگز مقررہ 5 روز میں مکمل نہ ہوئی تو میچ مزید ایک روز تک جاری رہے گا، اننگز 6 روز میں بھی مکمل نہ ہونے پر دونوں ٹیموں کو ایونٹ کا مشترکہ فاتح قرار دیدیا جائے گا۔دوسری جانب کوڈ آف کنڈکٹ کے قوانین میں بھی تبدیلیاں کرتے ہوئے سلو اوور ریٹ پرجرمانے کے قوانین میں نظرثانی کردی گئی ہے۔

طویل دورانیے کے میچز میں مقررہ وقت میں1 سے 2 اوورز کم کرنے کی صورت میں ٹیم پر 8 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، 3 سے 4اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 12 ہزار، 5سے6 اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 16 ہزار، مقررہ وقت میں 7سے8 اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 20 ہزار ، 9یا اس سے زائد اوورز کم کرنے پر پنالٹی سمیت 25 ہزار روپے جرمانہ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ون ڈے میچز میں سلو اوور ریٹ پر جرمانے کی شرح بھی مقررکردی گئی، مقررہ وقت میں 1 سے 2 اوورز کم کرنے کی صورت میں ٹیم پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

3 سے 5اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 12 ہزار روپے، 6یا اس سے زائد اوورز کم کرنے پر پنالٹی سمیت 16 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ٹی ٹوئنٹی میچزمیں مقررہ وقت میں 1اوور کم کرنے کی صورت میں ٹیم پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا، 2 سے 4اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 15 ہزار روپے جرمانہ کیا جائیگا،مقررہ وقت میں 5یا اس سے زائد اوورز کم کرنے کی صورت میں پنالٹی سمیت 20ہزار روپے جرمانہ ہوگا، پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ میں ڈے اینڈ نائٹ میچز کی صورت میں ٹیموں کو 30 اضافی منٹ دستیاب ہوں گے۔

پہلی بار فرسٹ کلاس کرکٹ میں نو ٹاس قانون کو متعارف کرایا گیا ہے۔ شق 13.4 کے مطابق مہمان ٹیم چاہے تو ٹاس کیے بغیر پہلے بولنگ کرنے کا اختیار استعمال کرسکتی ہے، اگر فیصلہ اس کے برعکس ہوا تو دونوں کپتان ٹاس کرنے میدان میں جائیں گے، نیوٹرل وینیو پر میچ کی صورت میں شیڈول میں درج ہوم سائیڈ کونو ٹاس قانون پرعملدرآمدکا اختیار نہیں ہوگا۔ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید کا کہنا ہے کہ پی سی بی قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنے کیلیے کوشاں ہے، پلیئنگ کنڈیشنز میں تبدیلیاں کرکٹرز میں پروفیشنلزم بڑھائیں گی جس سے قومی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کی تیاری میں مدد ملے گی۔