English

کوہلی کی محدود اوورز کی کپتانی خطرے میں پڑ گئی

بھارتی کرکٹ بورڈ میں ٹیم کی کپتانی کے معاملے پر پھوٹ پڑنے کی افواہیں

تصویر: اے ایف پی

بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی اور تجربہ کار بلے باز روہیت شرما کے درمیان ٹیم کی کپتانی کے معاملے پر کھینچا تانی بڑھنے کی رپورٹس پر بھارتی بورڈ بھی دو حصوں میں بٹ گیا۔

 انڈو ایشین نیوز سروس کے مطابق بھارتی ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ٹیم کے اندر کھینچا تانی کی افواہیں گردش میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے کچھ حکام اور کھلاڑی ویرات کوہلی کو اب مزید کپتان نہیں دیکھنا چاہتے ان کے متبادل کے طور پر تجربہ کار اوپنر روہیت شرما کا نام لیا جارہا ہے۔ ورلڈ کپ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بھی کافی تنائو دیکھنے میں آرہا ہے۔ 

بی سی سی آئی حکام کے مطابق بورڈ اس بات پر سوچ بچار کر رہا ہے کہ محدود اوورز کی کپتانی ویرات کوہلی سے لے کر روہیت شرما کو سونپ دی جائے جبکہ ویرات کوہلی ٹیسٹ کرکٹ میں کپتانی کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

بی سی سی حکام کے درمیان اس امکان پر بھی تبادلہ خیال ہو رہا ہے کہ روہیت شرما کو پچاس اوورز کے فارمیٹ کے لئے کپتان بنانے کے لئے یہ مناسب ترین وقت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اگلے ورلڈ کپ کی تیاریاں ابھی سے شروع کردی جائیں کیونکہ کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں نظر ثانی اور نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مناسب ترین شخص روہیت شرما ہوسکتے ہیں۔   

اس حوالے سے اعلیٰ حکام کا ایک جائزہ اجلاس بھی متوقع ہے جس میں ورلڈ کپ کے میچوں میں بھارتی کھلاڑیوں کی کارکردگی اور دیگر اہم اشوز کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھارتی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے بتایا ہے کہ ٹیم کے اندر واضح طور پر دو گروپ بن چکے ہیں ایک گروپ کوہلی کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروہ روہیت شرما کے ساتھ ہے۔ 

 رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ویرات کوہلی کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل کسی سے مشاورت کرنا ضروری نہیں سمجھتے کیونکہ انہیں بھارتی کوچ روی شاستری اور سپریم کورٹ کی جانب سے تعینات کئے گئے کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے چیف ونود رائے کی بھر پور معاونت حاصل ہے۔