English

جنید خان نے ٹیم کی سلیکشن پالیسی پر سوال اٹھادیا

جنید خان نے کہا کہ میں نے امریکا کی جانب سے کھیلنے کی  پرْکشش پیشکش ٹھکرادی لیکن ملک میں کسی نے قدر نہیں کی

جنید خان نے ٹیم کی سلیکشن پالیسی پر سوال اٹھادیا تصویر: اے ایف پی

جنید خان نے پاکستان ٹیم کی سلیکشن پالیسی پر سوال اٹھادیا، نظر انداز شدہ پیسر کا کہنا ہے کہ انتخاب کیلیے کھلاڑی کا ’’یس مین‘‘ ضروری ہے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو انٹرویو میں جنید خان نے کہا کہ قومی ٹیم میں انتخاب کیلیے کھلاڑی کا ’’یس مین‘‘ ہونا ضروری ہے، کسی کرکٹر کے کپتان اور کوچ سے جتنے زیادہ اچھے تعلقات ہوں گے اس کو اتنے ہی زیادہ مواقع ملیں گے،بڑے شہر سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو ٹیم سے ان، آؤٹ کرنا روایت بن چکی ہے، میرا تعلق لاہور یا کراچی سے نہیں اس لیے ٹیم سے باہر کردیاگیا، اگر آپ کا تعلق کسی بڑے شہر سے ہو تو ہر کوئی حق میں آوازبلند کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یاسر شاہ اور میرا تعلق صوابی سے ہے جہاں میڈیا میں کوئی ہماری بات کرنے والا نہیں، اس لیے سلیکٹرز پر کوئی دباؤ نہیں پڑتا۔ پیسر نے کہا کہ عمدہ کارکردگی کے باوجود مجھے مسلسل مواقع نہیں دیے گئے، میں حسن علی کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں دوسرا بہترین بولر اور تینوں فارمیٹ میں ٹیم کا حصہ تھا،جب میں نے آرام کا کہا تووہ نہیں دیاگیا، اس کے بعد میں ٹیم انتظامیہ کی پسند و ناپسند کا شکار ہوگیا۔

جنید خان نے کہا کہ میں نے امریکا کی جانب سے کھیلنے کی  پرْکشش پیشکش ٹھکرادی لیکن ملک میں کسی نے قدر نہیں کی، سلیکٹرز کو شاید میری شکل پسند نہیں تھی۔ورلڈکپ کے ابتدائی ناموں میں جگہ ملی لیکن عین وقت پر ڈراپ کردیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کے لیے 120میچز کھیلے لیکن یہ تعداد اس سے بہت زیادہ ہوسکتی تھی،میں ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں ہوں، ڈومیسٹک میچز سمیت جہاں موقع ملا کھیلتا رہوں گا،مجھے یقین ہے کہ دیگر کرکٹرز کی طرح ایک بارپھر ٹیم میں واپسی میں کامیاب ہوجاؤں گا۔