English

کریمنل ایکٹ، فکسرز کو شکنجے میں کسنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

بورڈکی وجہ سے لوگوں کو بچایا گیا، پورے سسٹم کودھکا دے کرعامر کو اسٹار بنا دیا

کریمنل ایکٹ، فکسرز کو شکنجے میں کسنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا فوٹو: اے ایف پی

فکسرز کو کریمنل ایکٹ کے شکنجے میں کسنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، سابق پیسر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ کسی کرکٹر کو 10 سال جیل کی سزا اور جائیداد ضبط ہو تو دوسروں کو کرپشن کی جرات نہیں ہوگی،اسمبلی میں قانون کیوں پیش نہیں کیا گیا، 1995 سے سلسلہ چل رہا ہے، لوگ میچ فکسنگ کرتے اور واپس بھی آتے جا رہے ہیں، آج اونچی آواز میں قانون بنانے کی بات کرنے والوں نے اس وقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جب وہ خود پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو اور چیئرمین تھے،  بورڈ کی وجہ سے لوگوں کو بچایا گیا، پورے سسٹم کو دھکا دے کر محمد عامر کو اسٹار بنا دیا، آج تک کرکٹرز یہی سمجھتے ہیں کہ کرپشن کرو پابندی کے6 ماہ گزارو اور واپس آ جاؤ۔

سابق کپتان راشد لطیف نے کہاکہ اگر کریمنل ایکٹ بن گیا تو پی سی بی عہدیداروں کی اکثریت سلاخوں کے پیچھے ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق اپنے یو ٹیوب چینل اور ایک انٹرویو میں سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ یہ پی سی بی اورلیگل ٹیم کی نالائقی ہے کہ ابھی تک فکسنگ کرنے والوں کیخلاف کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کیلیے قانون سازی نہیں کرائی جا سکی، اگر فکسرز کو جیل بھیجنے یا جائیداد ضبط کرنے کا قانون ہو تو کھلاڑیوں کے ذہن میں ایک خوف ہوگا، ان کو اندازہ ہوگا کہ کوئی گڑبڑ کی تو10سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزریں گے، دیگر ملکوں میں فکسنگ کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں، انھوں نے کہا کہ1995سے یہ سلسلہ چل رہا ہے، لوگ میچ فکسنگ کرتے اور واپس بھی آتے جا رہے ہیں۔

یہ پی سی پی اور لیگل ڈپارٹمنٹ کی نالائقی ہے کہ کریمنل ایکٹ بنانے کے لیے قانون قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا، میرا سوال ہے کہ محمد عامر کو واپس کیوں بلایا؟ پیسر کیلیے الگ سلمان بٹ اور محمد آصف کے لیے الگ رویہ کیوں رکھا گیا، عامر کو اسٹار بنا دیا، پیسر کی واپسی کیلیے اپنے پورے سسٹم کو دھکا دیا،اس نے آپ کو دھکا دے دیا، اگر کسی کو دوسروں کی عبرت کیلیے مثال بنایا ہوتا تو شاید یہ سلسلہ رک گیا ہوتا۔ شعیب اختر نے کہا کہ آج جو بڑی اونچی آواز میں فکسرز کو جیلوں میں ڈالنے کی باتیں کرتے ہیں، ان لوگوں نے یہ فیصلے اس وقت کیوں نہیں کیے جب خود پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو یا چیئرمین تھے، سچ تو یہ ہے کہ فکسنگ کرنے والوں کو کوور کیا گیا،بورڈ  کی وجہ سے لوگوں کو بچایا اور واپس لایا گیا، یہ لوگ پھر پاکستان کیلیے بھی کھیلے، آج تک کرکٹرز یہی سمجھتے ہیں کہ فکسنگ کرلو،6ماہ کی پابندی کا وقت گزارو، پھر شرجیل خان کی طرح واپس آ جاؤ، جب تک اس طرح کے قوانین ہوں گے یہ سلسلہ رکنے والا نہیں، آج عمراکمل تو کل کسی اور کا نام سامنے آئے گا۔ شعیب اختر نے کہا کہ تاخیر سے رپورٹ کرنے کے جرم میں عمر اکمل کو زیادہ سزا ہوئی،انھوں نے اپیل کا فیصلہ بھی کیا ہے، خدشہ  یہی ہے کہ مڈل آرڈر بیٹسمین کو ڈرا دھمکا کر منا لیں گے۔

یاد رہے کہ پیر کو ڈسپلنری پینل کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے عمر اکمل پر 3سال کی پابندی عائد کردی تھی،فکسنگ کے واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آنے کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے کرپٹ کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کیلیے قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے،اس میں بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ پیش پیش تھے، اب راشد لطیف کا موقف بھی سامنے آگیا،ویب سائٹ ’’کرکٹ پاکستان‘‘ کے مطابق سابق کپتان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہاکہ فکسنگ پر انکوائری رپورٹس میں گڑبڑ کیے جانے کی تاریخ ہے، جس کے ہاتھ میں اختیار ہو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، اسی لیے ہم قانون بنانے کی بات کرتے ہیں،فکسنگ پر کریمنل ایکٹ بن جائے تو پی سی بی کے عہدیداروں کی اکثریت سلاخوں کے پیچھے ہوگی۔

تب معلوم ہوگا کہ اصل میں کرپٹ کون ہے، انھوں نے کہا کہ محمد عرفان اور محمد نواز کے نام لیے جاتے ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ انھوں نے کب  اور کیوں رپورٹ کی،کتنے ہیں جنھوں نے رپورٹ نہیں کی، میرے پاس ویڈیوز ہیں لیکن تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، پاکستان میں بڑا تنازع کھڑا ہوجائے گا، ہر کسی کو گمراہ کیا جا رہا ہے، لوگ نہیں جانتے کہ 8 فروری 2017 کی رات کو کیا ہوا تھا، 9  فروری کو میچ میں کیا ہوا، کھلاڑیوں کے فون کس طرح پاکستان لائے اور 12 فروری کو کھولے گئے،17 فروری کو بیان کیسے لے گئے، بیٹس اور ان کی گرپس کیسے صاف کی گئیں۔