news
English

پی سی بی کا قومی ٹیم کے نئے کوچز کا باضابطہ اعلان   

ریڈ بال فارمیٹ کے لئے جیسن گلیسپی اور وائٹ بال کے لئے گیری کرسٹن کو پاکستانی ٹیم کا باضابطہ کوچ مقررکیاگیا ہے۔

پی سی بی کا قومی ٹیم کے نئے کوچز کا باضابطہ اعلان    

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم کے نئے کوچز کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کردیا۔  
ریڈ بال فارمیٹ کیلئے جیسن گلیسپی جبکہ وائٹ بال کیلئے گیری کرسٹن کو پاکستانی ٹیم کا ہیڈکوچ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اظہر محمود تمام فارمیٹس میں اسسٹینٹ کوچ کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ تینوں فارمیٹس کے کوچز کی تقرری 2 سال کی مدت کے لئے کی گئی ہے، جیسن گلیسپی دورہ بنگلہ دیش اور گیری کرسٹن دورہ انگلینڈ کے دوران پاکستانی اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔ 
گیری کرسٹن انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں اپنی اسائنمنٹ مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالیں گے جس میں آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 اور دیگر دو طرفہ وائٹ بال سیریز شامل ہیں جس میں پاکستانی ٹیم کا دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ شامل ہے۔ 
گیری کرسٹن آئندہ سال پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025، اے سی سی ٹی 20 ایشیا کپ 2025 اور 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈکپ میں بھی پاکستان ٹیم کی کوچنگ کے فرائض سرانجام دیں گے۔
 
جیسن گلیسپی اگست میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے۔ جس کے بعد 2024-25کے سیزن میں انگلینڈ کے خلاف اکتوبر میں ہوم سیریز اور دسمبر میں جنوبی افریقہ کے دورے میں وہ ٹیم کے ساتھ ہونگے۔ 
اس موقع پر دونوں غیرملکی کوچز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری صلاحیتوں پر اعتماد کیا، عالمی سطح پر پاکستان ایک بڑی ٹیم ہے اس کی کوچنگ کرنا ایک اعزاز ہے۔ 
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ میں جیسن گلیسپی اور گیری کرسٹن کو پاکستانی ٹیم کے ریڈ اور وائٹ بال کے ہیڈ کوچ کے طورپر تقرری پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کے شاندار ٹریک ریکارڈز سب کے سامنے ہیں اور میں پاکستان کی کرکٹ فیملی میں ان کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کرتا ہوں۔،،  
انہوں نے کہا کہ میں اظہر محمود کی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سیٹ اپ میں کل وقتی بنیاد پر واپسی کا خیرمقدم کرتا ہوں جو پہلے بولنگ کوچ اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ 
جیسن گلیپسی کا کوچنگ کیریئر ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل دونوں سطح پر کامیابیوں کا سفربیان کرتا ہے جس میں کھلاڑیوں کی ڈیولپمنٹ اور ٹیم کی کارکردگی میں قابل ذکر نتائج کے حصول پر توجہ دی گئی ہے جب کہ گیری کرسٹن کا کوچنگ کریئر جیتنے والی سوچ پیدا کرنے اور نوجوان ٹیلنٹ کو فروغ دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے جس نے انہیں کھیل کی اعلیٰ ترین سطح پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے کرکٹ میں سب سے زیادہ قابل احترام اور تجربہ کار کوچز میں سے ایک بنا دیا ہے۔ 49 سالہ سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر نے 1996-2006 کے دوران 71 ٹیسٹ، 97 ون ڈے اور ایک ٹی20 انٹرنیشنل میچ کھیلا ہے اور مجموعی طور پر 402 وکٹیں حاصل کیں اور 1,531 رنز بنائے۔ ایک اننگز میں ان کی بہترین بولنگ جولائی 1997 میں انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے میں 37 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کرنا تھی جبکہ ان کا ٹیسٹ میں بہترین اسکور بنگلہ دیش کے خلاف اپریل 2006 میں چٹوگرام میں تھا جب انہوں نے 201 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ 
جیسن گلیسپی نے پاکستان کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ 13 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 21 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ میں آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2003 جیتنے والے آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ 2014 اور 2015 میں لگاتار کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹائٹل جیتنے والی یارکشائر کاؤنٹی کے کوچ تھے۔ یارکشائر کے ساتھ گزارے گئے اپنے وقت کے دوران انہوں نے انگلینڈ کے اسٹار کرکٹرز جونی بیرسٹو، گیری بیلنس اور جو روٹ کی ڈیولپمنٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 
جیسن گلیسپی نے 2015-2024 تک ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی کوچنگ بھی کی جس نے 2017-18 کے سیزن میں بی بی ایل ٹائٹل جیتا۔ وہ سسیکس 2018-2020 اور جنوبی آسٹریلیا 2020-2024 کے کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2010-2012 تک زمبابوے میں کوچنگ کی اور 2017 میں پاپوا نیوگنی کی نیشنل کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر دو ماہ تک خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کوالیفائر کی تیاری میں ٹیم کی مدد کی۔ 
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے گیری کرسٹن نے 1993-2004 تک 101 ٹیسٹ اور 185 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جس میں انہوں نے 34 سنچریوں کے ساتھ مجموعی طور پر 14,087 رنز بنائے۔ 
پاکستان کے خلاف 11 ٹیسٹ میچزمیں انہوں نے 55.86 کی اوسط سے 838 رنز بنائے۔ 24 ون ڈے میچز میں انہوں نے 55.47 کی اوسط سے 1,054 رنز اسکور کیے۔ وہ آئی سی سی ناک آؤٹ ٹرافی 1998 (جو اب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے نام سے پہچانی جاتی ہے) جیتنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم کے رکن تھے۔ وہ 1996 سے 2003 تک تین آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 2008سے 2011 تک انڈین ٹیم کی کوچنگ کی اور آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2011 ٹائٹل کے ساتھ ساتھ آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے میں بھی ان کی مدد کی۔