English

کرکٹرز ٹراؤزرز کی جگہ شارٹس پہن کر کھیلیں گے؟

موسم کی سختی جھیلنے کیلیے قدیم روایات کوترک کرنا پڑسکتا ہے

PHOTO: AFP

موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست کرکٹ پر اثر انداز ہونے کا خطرہ بڑھ گیا جب کہ کھلاڑیوں کو موسم کی سختی جھیلنے کیلیے قدیم روایات کو ترک کرنا پڑسکتا ہے۔

لارڈز میں ایک خصوصی رپورٹ ’ہٹ فار سکس‘ کا اجرا ہوا جس میں کھلاڑیوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلیے کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں، جس کی رو سے کھلاڑیوں کو قدیم روایات کو ترک بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر کرکٹرز اب لمبے ٹراؤزرز کی بجائے شارٹس میں بھی کھیلتے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ خاص طور پر بیٹسمینوں کو سخت گرمی سے نمٹنے کیلیے آرام دہ کپڑے پہننے کی اجازت ہونا چاہیے، اسی طرح کٹ اور دوسرا سامان بنانے والے اداروں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسے ہیلمٹس، گلوز اور پیڈز وغیر بنائیں جس سے ہوا کا گزر ہو اور پلیئرز کو ٹھنڈا رکھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ ابھی سے ان کا اثر پڑنے لگا ہے، اس حوالے سے خاص طور پر چوتھے ٹیسٹ میں ڈائریا کا شکار ہونے والے انگلش کپتان جوئے روٹ کی مثال دی گئی جنھیں اسپتال سے پھر سیدھا گراؤنڈ میں لوٹنا پڑا۔

آئی سی سی بھی کہا گیاکہ وہ نئی ہیٹ پالیسی بنائے، اس حوالے سے آسٹریلیا کو سراہا گیا جہاں پر مختلف ایسوسی ایشنز کی جانب سے گرم موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیٹ پالیسی اپنائی گئی، جس میں درجہ حرارت ایک مقررہ حد سے بڑھ جانے پر میچ کو ملتوی تک کردیا جاتا ہے۔