news
English

سری لنکا میں ایشیا کپ کے مستقبل پر مزید اندھیرا چھا گیا

کراچی: سری لنکا میں بجلی بحران کے باعث ایشیا کپ کے مستقبل پر مزید اندھیرا چھا گیا۔

سری لنکا میں ایشیا کپ کے مستقبل پر مزید اندھیرا چھا گیا

ملک میں بجلی کے بحران کی وجہ سے نائٹ میچز کا انعقاد دشوار ہو چکا ہے، معاشی اور سیاسی بحران سے آئندہ ماہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورے پر بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے، شدید گرمی نے کینگروز سے میچز یو اے ای منتقل کرنا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔

دوسری جانب سری لنکا کرکٹ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے کہا کہ ہمارا آسٹریلیا سے سیریز اور ایشیا کپ پروگرام کے مطابق کرانے کا ارادہ ہے، ہوم سیریز کے مقابلے دن میں ہی ہو سکتے ہیں، نائٹ میچز کیلیے ہم حکومتی بجلی پر انحصار نہیں کرتے، البتہ اگر جنریٹرز کیلیے ایندھن دستیاب نہ ہوا تو صورتحال مختلف ہو جائے گی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق آسٹریلوی ٹیم کے ٹور کا فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ہوگا، اگر ایشیا کپ کا انعقاد نہ ہوا تو بورڈ کو 6 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، ایشین کرکٹ کونسل نے بورڈ کو میزبانی کی تصدیق کیلیے 27 جولائی تک کا وقت دیا ہے، بطور پلان بی متحدہ عرب امارات کو بھی تیار رہنے کا کہا جا چکا۔ تفصیلات کے مطابق کینگروز کو سری لنکا میں 3 ٹوئنٹی 20، پانچ ون ڈے اور 2 ٹیسٹ میچز 7 جون سے 12 جولائی تک کھیلنے ہیں۔

ایشیا کپ 27 اگست سے 11 ستمبر تک ہونا ہے مگر ملک میں شدید معاشی اور سیاسی بحران کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ کا انعقاد خطرے میں دکھائی دینے لگا، 24 میں سے صرف 12 گھنٹے تک ہی بجلی دستیاب ہوتی ہے، اشیائے ضرورت کی کمی ہو چکی جبکہ ایندھن اور خوراک کے ذخیرے بھی تیزی سے کم ہورہے ہیں، ایسے میں سری لنکا کرکٹ کیلیے کینگروز سے ڈے اینڈ نائٹ میچز کا انعقاد بھی مشکل دکھائی دینے لگا۔

وہ ان میچز کو دن کی روشن میں منعقد کرنے پر بھی غور کررہا ہے، بورڈ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے کہا کہ سردست آسٹریلیا سے سیریز اور ایشیا کپ پروگرام کے مطابق طے ہے، ہم آئندہ چند دنوں میں ہونے والی پیش رفت کے بعد لائحہ عمل کا تعین کریں گے، انھوں نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ نائٹ میچز کیلیے حکومتی بجلی پر انحصار نہیں کرے گا۔

ہمارے پاس اپنے جنریٹرز موجود ہیں، البتہ ایندھن کی کمی ہونے پر صورتحال مختلف ہوسکتی ہے، یاد رہے کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ 22 مئی سے مکمل ڈومیسٹک سیزن بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق آسٹریلوی ٹیم کے ٹور کا فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ہوگا، اس حوالے سے کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے کہا کہ سردست ہمارے ٹور کے اسٹیٹس میں کوئی فرق نہیں آیا۔

اسکواڈ جون میں سری لنکا پہنچے گا، ڈے نائٹ میچز سے متعلق فیصلہ میزبان ملک کو کرنا ہے، جون ، جولائی میں شدید گرمی کے پیش نظر سیریز کی یواے ای منتقلی خارج از امکان ہوگی۔ واضح رہے کہ کینگروز سے سیریز سے سری لنکا کرکٹ کو 3 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔

اخراجات نکال کر ایک ملین ڈالر تو بچ ہی جائیں گے، اگر ایشیا کپ کا انعقاد نہ ہوا تو بورڈ کو 6 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا، ایشین کرکٹ کونسل نے بورڈ کو میزبانی کی تصدیق کے لیے 27 جولائی تک کا وقت دیا ہے۔

ایونٹ کو یو اے ای منتقل کرنے پر بھی غور جاری ہے، 5 ٹیموں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان کی شرکت یقینی ہو گی جبکہ چھٹی کا فیصلہ کوالیفائر میچز سے ہونا ہے، یو اے ای، کویت، ہانگ کانگ یا سنگاپور میں سے کسی کو شرکت کا موقع ملے گا۔ ادھر سری لنکن ٹیم کے سابق منیجر چیراتھ سینانائیکے کے مطابق سیاسی صورتحال سے ملکی کرکٹ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، بورڈ ہمیشہ سے سیاسی رہا ہے، حکومت بھی یہی چاہے گی کہ مقابلوں کا ملک میں ہی انعقاد ہو۔