news
English

عثمان خان نے پاکستان کےٹی 20 اسکواڈتک پہنچنے کامشکل سفربیان کردیا

فاروق آباد سے تعلق رکھنے والے، 28 سالہ نوجوان کھلاڑی ابتدائی طور پر کراچی میں سکونت اختیار کرنے سے پہلے شیخوپورہ منتقل ہوا، جہاں اسے یقین تھا کہ اس کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے پہچانا جائے گا اور وہاں اس کا کیریئر پروان چڑھ سکتا ہے۔

عثمان خان نے پاکستان کےٹی 20 اسکواڈتک پہنچنے کامشکل سفربیان کردیا

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کے ٹی 20 اسکواڈ کا حصہ بننے والے عثمان خان نے اپنے کرکٹ کے سفر میں درپیش چیلنجز کے بارے میں پہلی بار کھل کر بات کی۔ 
فاروق آباد سے تعلق رکھنے والے، 28 سالہ نوجوان نے ابتدائی طور پر کراچی میں آباد ہونے سے پہلے شیخوپورہ میں رہائش اختیار کی۔ جہاں انہیں یقین تھا کہ ان کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے پہچانا جائے گا اور ان کا کیریئر پروان چڑھ سکتا ہے۔ 
عثمان خان نے پی سی بی ڈیجیٹل کو بتایاکہ "میرے بھائی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور میں نے اس کی پیروی کی۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں، میں ایک کمپلیکس میں رہتا تھا اور صرف کرکٹ پر توجہ مرکوز کرتا تھا،" عثمان نے پی سی بی ڈیجیٹل کو بتایا کہ کراچی میں اپنی کوششوں اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شرکت کے باوجود، عثمان کو اپنے خاندان کی مالی ضروریات پوری کرنا مشکل محسوس ہوا۔ اس کے نتیجے میں، اس نے متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ کام اور کرکٹ دونوں کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے کرکٹ کھیلتے ہوئے عجمان گیس میں بطور مزدور کام کیا۔ ہماری ٹیم کے متعدد مقامی ٹورنامنٹ جیتنے میں مالک کا تعاون اہم تھا۔ 
عثمان خان کی پیش رفت ٹی 10 لیگ کے 2022 کے ایڈیشن میں ہوئی، جہاں انہیں اپنے کیریئر کو آگے بڑھاتے ہوئے اسٹینڈ آؤٹ مقامی کھلاڑی کے طور پر پہچانا گیا۔ ان کی پرفارمنس نے اینڈی فلاور کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں انہیں پاکستان سپر لیگ 2023 کے سیزن کے لیے ایک مقامی کھلاڑی کے طور پر ملتان سلطانز کےاسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد 2024 کے ایڈیشن میں، انہوں نے امارات کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ کیا اور ایک غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر ملتان سلطانز کی نمائندگی کی، تاہم، عثمان خان نے حال ہی میں پاکستان کی نمائندگی کے اپنے عزائم کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں ای سی بی کے ساتھ ان کا معاہدہ ختم ہو گیا اور متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کھیلنے پر پانچ سال کی پابندی عائد کردی گئی۔