news
English

4 روزہ ٹیسٹ ؛ آئی سی سی کا 2023 سے لازمی قرار دینے پرغور

فیوچر ٹور پروگرام میں زیادہ جگہ نکالنے کیلیے طویل فارمیٹ کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے

4 روزہ ٹیسٹ ؛ آئی سی سی کا 2023 سے لازمی قرار دینے پرغور تصویر: فائل

آئی سی سی نے 4 روزہ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے پر غور شروع کردیا۔

2023-2031 کے فیوچر ٹور پروگرام میں زیادہ جگہ نکالنے کیلیے طویل فارمیٹ کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، کھلاڑی ابھی سے ناخوشی ظاہر کرنے لگے، تجویزکی بھرپورمخالفت ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2023 سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 4 روزہ فارمیٹ کولازمی قرار دینے پر غور شروع کردیا ہے۔

2020 میں آئی سی سی کرکٹ کمیٹی باضابطہ طور پر اس معاملے کا جائزہ لے گی۔ اس کا مقصد فیوچر ٹور پروگرام میں زیادہ جگہ نکالنا ہے، آئی سی سی کوپہلے ہی اپنے ایونٹس کیلیے ونڈو کی دستیابی کا مسئلہ ہے، بڑی ڈومیسٹک ٹی 20 لیگ کوبھی جگہ چاہیے جبکہ بی سی سی آئی اپنے باہمی کیلینڈر کیلیے ایک بڑی جگہ پر بضد ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیسٹ سیریزکے انعقاد پرآنے والے اخراجات بھی اس تجویزکی ایک وجہ ہیں۔ 2015 سے 2023 تک کے اس جاری دورانیہ میں اگر5 کے بجائے4 روزہ ٹیسٹ میچز کھیلے جاتے تواس دوران 335 دن کی بچت ہوسکتی تھی جوکہ دوسرے ایونٹ کے انعقاد میں کام آسکتے تھے۔4 روزہ میچ سے جمعرات سے اتوار تک میچزکے انعقاد کا امکان بڑھ جائے گا۔

نشریاتی اداروں کو بھی بچت ہوگی، وہ پانچویں دن کے بجٹ سے بچ جائینگے۔گرائونڈ اسٹاف کو زیادہ بہتر پچز تیار کرنے میں مدد ملے گی، 4 روزہ ٹیسٹ میں روزانہ 90 کے بجائے 98 اوورزکا کھیل ہوگا، اس طرح ایک دن کی کٹوتی سے صرف 58 اوورز کا نقصان ہوگا۔

ایک دلیل یہ بھی دی جاری ہے کہ 2018 کے آغاز سے اب تک کھیلے گئے 60 فیصد ٹیسٹ میچز4 دن کے اندر ختم ہوئے ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سمیت کچھ بورڈز اس تجویز کے حق میں دکھائی دیتے ہیں تاہم پلیئرزاس سے خوش نظر نہیں آرہے، فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ٹونی آئرش کہتے ہیں کہ پہلے ہم اس تجویز کی واضح تصویر دیکھنا چاہیں گے، ویسے بھی آئی سی سی ہر کچھ دن بعد نئی چیز سامنے لے آتا ہے۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل آسٹریلوی کپتان ٹم پین نے کہا تھا کہ حالیہ ایشز کے میچز پانچویں دن تک گئے، اگر 4 روزہ فارمیٹ ہوتا توشاید نتیجہ ہی نہیں نہ نکلتا، ویسے بھی فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ میں کچھ توفرق ہونا چاہیے۔