news
English

بابر اعظم کو بااختیار کپتان بنانے کا یقین دلا دیا گیا

پی سی بی نے گذشتہ برس اکتوبر میں اظہر علی کو سرفراز احمد کی جگہ قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا

بابر اعظم کو بااختیار کپتان بنانے کا یقین دلا دیا گیا فوٹو: پی سی بی

کراچی:  نیوزی لینڈ میں بابر اعظم ٹیسٹ قیادت بھی سنبھالیں گے جب کہ انھیں مکمل بااختیار کپتان بنانے کا یقین دلایا گیا ہے۔

پی سی بی نے گذشتہ برس اکتوبر میں اظہر علی کو سرفراز احمد کی جگہ قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا مگر وہ ایک سال میں ہی حکام کے دل سے اتر گئے۔ دورہ انگلینڈ کے آخری ٹیسٹ میں انھوں نے سنچری بنا کر فارم میں واپسی کا اعلان کر دیا مگر پہلے ٹیسٹ میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان کو سیریز گنوانا پڑی تھی۔

اظہر علی گذشتہ دنوں چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق اور آل راؤنڈر محمد حفیظ کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کیلیے گئے تھے، جہاں انھوں نے بے روزگار کرکٹرز کا مقدمہ پیش کیا، اس پر بورڈ حکام نے سرزنش بھی کی مگر اسی وقت محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی قیادت اب خطرے میں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گوکہ میڈیا میں جمعرات کو اس حوالے سے خبریں آنا شروع ہوئیں مگر کئی دن قبل ہی چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے بابر اعظم کو تیار رہنے کا کہہ دیا تھا،اس میٹنگ میں انھوں نے نوجوان بیٹسمین کو بتایا تھا کہ بورڈ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی طرح ٹیسٹ میں بھی ان کو ہی قیادت سونپنا چاہتا ہے، بورڈ حکام نے انھیں بااختیار کپتان بنانے کا بھی یقین دلا دیا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز جب محمد رضوان کو ٹیسٹ میں قیادت سونپنے کی خبریں سامنے آئیں تو بابر کو بھی اس پر حیرانی ہوئی جس پر بورڈ پس پردہ رہتے ہوئے بابر اعظم کا نام  بطور فرنٹ رنر سامنے لایا، حکام چاہتے ہیں کہ تینوں طرز میں بابر کو طویل عرصے کے لیے ذمہ داری سونپی جائے، وہ سینئرز یا جونیئرز جس کے ساتھ آرام دہ محسوس کریں اپنی ٹیم بنائیں،اس  سے جلد پاکستانی سائیڈ دوبارہ فتوحات کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔

دوسری جانب اظہر علی کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ انھیں بورڈ نے استعمال کر کے چھوڑ دیا،اگر کپتان بنایا تھا تو کچھ وقت تو دینا چاہیے تھا، اب اگر قیادت سے ہٹایا تو اس کی واحد وجہ صرف وزیر اعظم سے ملاقات ہی ہوگی۔

دریں اثنا چیئرمین احسان مانی اور بابر اعظم کی چند روز قبل ملاقات کے بارے میں جب نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی سے استفسار کیا تو انھوں نے کہا کہ مجھے ایسی کسی ملاقات یا فیصلے کا علم نہیں ہے۔