news
English

آئی پی ایل کو انٹرنیشنل کرکٹ کے برابرنہیں سمجھنا چاہیے، نجم الحسن شانتو

بنگلہ دیش کے کپتان نے آئی پی ایل کو انٹرنیشنل کرکٹ کے برابر ہونے کی بحث کو مسترد کرنے کے لئے پی ایس ایل کا حوالہ دیا۔

آئی پی ایل کو انٹرنیشنل کرکٹ کے برابرنہیں سمجھنا چاہیے، نجم الحسن شانتو

بنگلہ دیشی ٹیم کے کپتان نجم الحسن شانتو کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل (انٓڈٖین پریمئرلیگ) کو کسی طرح بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے مثال کے لیے پی ایس ایل 2023 کی طرف اشارہ کیا، جہاں متعدد میچوں میں اسکور 200 رنز کو عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دوسری جانب بھارت میں جاری آئی پی ایل 2024 میں بہت زیادہ اسکور کرنے والے میچوں کی بھرمار دیکھی گئی ہے، جس نے بار بار اب تک کے سب سے زیادہ اسکور کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رجحان آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم، بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسین شانتو کا نقطہ نظر مختلف ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آئی پی ایل اور بین الاقوامی کرکٹ کو مساوی قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ 
نجم الحسن شانتو نے پی ایس ایل 2023 کی مثال دی جہاں بیشتر میچوں میں اسکور 200 رنز کو عبور کرتے دیکھا گیا۔ پھر بھی، ان کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ اسکور حاصل کرنا انٹرنیشنل کرکٹ میں اتنا عام نہیں ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ "آپ آئی پی ایل کا بین الاقوامی کرکٹ سے بالکل موازنہ نہیں کر سکتے، میرے خیال میں پچھلے سال پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) میں بھی 200 سے زیادہ اور یہاں تک کہ 250 سے زیادہ کا اسکور کیا گیا تھا۔ لیکن میری سمجھ کے مطابق، اگر کوئی ٹیم 160 سے زیادہ رنز بناتی ہے۔ 175-180 یا 200 کے ارد گرد، یہ بین الاقوامی کرکٹ میں بہت اچھا اسکور ہے، آپ کو انٹرنیشنل ٹی 20 میں اس طرح کے اسکورز اکثر نظر نہیں آتے۔،، 
نجم الحسن شانتو نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر ٹیموں کی جانب سے ورلڈ کپ 2024 کے دوران اچھی وکٹوں پر 160 سے 180 رنز بنانے کا امکان ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں، ہم ورلڈ کپ میں اسی طرح کے اسکور دیکھ سکیں گے، اچھی وکٹوں پر اسکور 160-180 کے آس پاس ہوگا۔ بولرز کو اس اسکور کا دفاع کرنا ہوگا یا مخالف ٹیموں کو اس کا تعاقب کرنا ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کا موازنہ آئی پی ایل کے ساتھ کسی بھی طرح سے منطقی ہے۔"