English

پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کا جون میں حتمی فیصلہ

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم خان نے ایک بار پھر سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ دورۂ انگلینڈ کے معاملے میں کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کا حتمی فیصلہ جون میں ہوگا، پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ابھی وہاں کے حالات خراب ہیں، کھلاڑیوں کی حفاظت کو پیش نظر رکھنا ہوگا،جوابی دورے کے لیے یقین دہانی حاصل کرنے کا یہ وقت نہیں لیکن ایم سی سی کی ٹیم آسکتی ہے تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے پاس  انکار کی کوئی وجہ نہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم خان نے ایک بار پھر سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ دورۂ انگلینڈ کے معاملے میں کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،ہم ای سی بی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، دونوں بورڈز کے متعلقہ نمائندے 15 مئی کو کانفرنس کال میں شرکت کریں گے۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو اسٹیو ہارمیسن، ڈائریکٹر کرکٹ ایشلے جائلز کے ساتھ چیف میڈیکل آفیسر اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز موجود ہوں گے، پی سی بی کی جانب سے مجھ سمیت چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان اور سربراہ میڈیکل پینل ڈاکٹر سہیل سلیم تبادلہ خیال کریں گے، اس موقع پر جائزہ لیا جائے گا کہ سیریز کے کیا امکانات ہیں، کانفرنس کال میں صرف پلاننگ ہوگی، ہم سیریز کے حوالے سے کوئی فیصلہ جون میں ہی کرپائیں گے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ای سی بی سے پاکستان کے جوابی دورے کے حوالے سے کوئی یقین دہانی لینے کا یہ مناسب وقت نہیں مگر ایم سی سی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرسکتی ہے، کرکٹ آسٹریلیا کا وفد بھی آسکتا ہے تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے 22-2021 میں پاکستان  نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ اس وقت انگلینڈ کے حالات بہت خراب ہیں،  وہ بائیو سیکیور نظام کی بات کررہے ہیں مگر کھلاڑیوں کی آمد ورفت اور رہائش کے لیے  فلائٹس اور ہوٹلز کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔

وسیم خان نے کہا کہ سب سے ضروری کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت ہے کیونکہ وہ جتنا وقت انگلینڈ میں گزاریں گے اتنا ہی زیادہ ایکسپوڑ ہوں گے، آئندہ 12 ماہ بہت اہم ہیں، اس صورتحال میں پوری کرکٹ فیملی کو ایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ  پی سی بی کے آئندہ 12 ماہ تو اطمینان بخش رہیں گے مگر 18 ماہ پر مشتمل دورانیے کے بعد ہمیں بھی مالی ایشوز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، امید ہے کہ اس وقت تک کرکٹ شروع ہوجائے گی۔