English

پی ایس ایل 5؛ بقیہ میچزپربورڈنے فرنچائززسے مشورہ مانگ لیا

انھیں بتایا گیاکہ4میچز پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ 50 سے75 لاکھ روپے تک آمدنی متوقع ہے

فوٹو: شفیق ملک

پی ایس ایل گورننگ کونسل کااجلاس جمعرات کو ویڈیو لنک پر ہوگا پی سی بی نے بقیہ میچزکرانے یا پانچویں ایڈیشن کو یہیں ختم کرنے کے حوالے سے فرنچائزز سے رائے طلب کر لی۔

انھیں بتایا گیاکہ4میچز پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ 50 سے75 لاکھ روپے تک آمدنی متوقع ہے، فرنچائزز نے گذشتہ دنوں خط لکھ کر مطالبات کی جو فہرست بھیجی تھی ان پربھی تبادلہ خیال ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل فرنچائزز کے دیرینہ مطالبے پر پی سی بی نے گورننگ کونسل کی آن لائن میٹنگ جمعرات کو طلب کر لی، رواں برس پہلی بار مکمل لیگ پاکستان میں شیڈول کی گئی،30میچز کے بعد ایونٹ کو کورونا وائرس کی وجہ سے روکنا پڑ گیا،آخری چند میچز خالی گراؤنڈز پر بھی کھیلے گئے۔

اب بورڈ نے فرنچائزز سے رائے طلب کی ہے کہ بقیہ میچز کرائے جائیں یا پانچویں ایڈیشن کو یہیں ختم کر دیں، انھیں بتایا گیا کہ 4میچز پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ 50 سے75 لاکھ روپے تک آمدنی متوقع ہے،یاد رہے کہ17 سے20 نومبر یا دسمبر کے اوائل کی 2 ممکنہ ونڈوز پی سی بی کی نظرمیں ہیں، گوکہ پلے آف میں پہنچنے والی چاروں ٹیمیں میچز کھیلنا چاہتی ہیں البتہ ذرائع کے مطابق انعقاد دشوار لگتا ہے، بورڈ کے اعلیٰ حکام کو بھی اس کا اندازہ ہے۔

عالمی وبا کب ختم ہو گی اس بارے میں کوئی نہیں جانتا، غیر ملکی کرکٹرز کی دستیابی والی ونڈو تلاش کرنا بھی آسان نہ ہوگا، حالات کی بہتری پر دنیا بھر کے ملتوی شدہ تمام ایونٹس کو بھی ری شیڈول کیا جائے گا،پی ایس ایل5کو 30 میچز پر ہی ختم کرکے اکاؤنٹس کو فائنل کرنے کی تجویزبھی موجود ہے،البتہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہواکہ اس صورت میں پوائنٹس ٹیبل پرسرفہرست ملتان سلطانزکو فاتح قرار یا بغیر کسی چیمپئن کے اختتام کر دیا جائے، ٹیم اونرز نے سی ای او وسیم خان کو گذشتہ دنوں مشترکہ خط لکھ کر مسائل حل کرنے کا کہا تھا۔

میٹنگ میں ان معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا، یاد رہے کہ فرنچائزز نے فیس کیلیے بینک گارنٹی کا سلسلہ ختم، مالکانہ حقوق کی مدت بڑھانے، واجبات کیلیے ڈالرکا ایک ریٹ مقرر کرنے، پی ایس ایل کی الگ کمپنی بنانے اور نئے 15 فیصد ٹیکس کو ختم کرنے کے مطالبات کیے تھے، بورڈ نے حال ہی میں لیگ کا الگ شعبہ تشکیل دیدیا ہے۔