news
English

پی ایس ایل فرنچائززکا آئی پی ایل کے شیڈولنگ تنازع پرتشویش کا اظہار

فرنچائز کے نمائندوں نے پی سی بی کو تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے سرفہرست کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شمولیت پر مائل کرنے کے لیے نئے سلاٹ کی ضرورت پر زور دیا۔

پی ایس ایل فرنچائززکا آئی پی ایل کے شیڈولنگ تنازع پرتشویش کا اظہار

پی ایس ایل فرنچائزز نے آئی پی ایل کی شیڈولنگ کے تنازع پر اپنی تشویش کا اظہار کردیا۔ فرنچائز کے نمائندوں نے پی سی بی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے اول درجے کے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مائل کرنے کے لیے نئے سلاٹ کی ضرورت پر زور دیا۔ 
تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل میں شامل فرنچائزز نے آئی پی ایل کے ساتھ شیڈولنگ کے نئے تنازع پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس شیڈولنگ کو مسترد کردیا، فرنچائزز نے آئی پی ایل کی شیڈولنگ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ اعلی درجے کے اور نوجوان، باصلاحیت اور بہترین کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے ایک نئی ونڈو کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کرکٹ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں لیگ کے آئندہ 10ویں ایڈیشن کو بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا جس میں اس کا شیڈول بھی شامل ہے۔ 12 اپریل سے شروع ہوکر 20 مئی کو اختتام پذیر ہونے والے اگلے پی ایس ایل ایڈیشن کے لیے منظور شدہ شیڈول آئی پی ایل سے براہ راست ٹکرائے گا جس کی وجہ سے پی ایس ایل فرنچائزز میں عدم اطمینان کی لہر دوڑ رہی ہے۔ میٹنگ کے دوران فرنچائز کے نمائندوں نے پی سی بی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور معروف کھلاڑیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لیگ کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ 
فرنچائزز کو بورڈ کی جانب سے آئیکون کھلاڑیوں کو راغب کرنے کی سفارشات کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ کسی غیر ملکی کرکٹر کو 3 سے 4 لاکھ ڈالر کی پیشکش کریں گے تو ان کے مقامی اسٹار کھلاڑی کو کتنا معاوضہ دیا جائے گا۔ ان تجاویز کو جن کا مقصد لیگ کو جدت سے ہمکنارکرانا تھا جیسے کہ سکہ اچھال کرٹاس کرنے کے عمل کو بلے کے ٹاس سے بدلنے کی تجویز پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور فرنچائزز نے اسے مسترد کر دیا۔ 
انہوں نے استدلال کیا کہ دیگر لیگوں میں اسی طرح کے اقدامات نے کھیل کے جوش و خروش یا تازگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا نہیں کیا ہے۔ خاص طور پر متاثرہونےوالے کھلاڑیوں کے معاملے کو آئی پی ایل کے اندر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور مستقبل کے ایڈیشنز میں دوبارہ جائزے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر بگ بیش لیگ میں سکے کے ٹاس کے بجائے بلے کا ٹاس ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔
گورننگ کونسل کا اجلاس ان خدشات کو دور کرنے اور ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے پی سی بی حکام اور فرنچائز مالکان کے درمیان مزید بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔