English

سری لنکن ٹیم کا کا دورہ پاکستان منسوخ ہونے پر رمیز راجہ کی کڑی تنقید

دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، راجہ

PHOTO: BCCI

سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پاکستان میں محدود اوورز کی سیریز کے سلسلے میں آمد منسوخ ہونے پر سابق کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں بھی سیکورٹی کی صورتحاال پاکستان سے بہتر نہیں ہے اس لیے سری لنکا کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

  یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو بیان میں رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان جس قسم کے حالات سے گزرا اس کا سامنا سری لنکا کو بھی کرنا پڑا جبکہ اسی طرح کے حا لات نیوزی لینڈ میں بھی پیش آئے اس لئے پاکستان کو سیکورٹی کے حوالے سے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن کھلاڑی تھسارا پریرا ورلڈ الیون کا حصہ بن کر پاکستان آچکے ہیں جہاں انہیں مکمل اور بھرپور فول پروف سیکورٹی دی گئی۔ 

تاہم انفرادی طور پر کھلاڑیوں کی سیکورٹی کے حوالے سے رمیز راجہ نے کہا وہ سری لنکن کھلاڑیوں کی تشویش کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ انفرادی طور پر کھلاڑیوں کو خطرات کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں خاص طور پر ان کھلاڑیوں کو جو 2009 میں لاہور میں ہونے والے حملے کے وقت یہاں موجود تھے ظاہر ہے وہ خود کو اس قسم کی صورتحال میں دوبارہ نہیں ڈالنا چاہیں گے۔

رمیز راجہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سری لنکن کرکٹ حکام اب اس صورت حال سے کس طرح نبرد آزما ہوں گے۔؟ انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ حکام اور کھلاڑیوں کے درمیان ابلاغ کی کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کیونکہ سری لنکن حکام نے پاکستان کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس دورے کی منظوری دی تھی- 

مگر شاید انہیں اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو ایک پریشان کُن صورتحال میں ڈال رہے ہیں اس لیے بہتر یہ تھا کہ سری لنکن کرکٹ حکام پہلے اپنے کھلاڑیوں کو اعتماد میں لیتے اور اس کے بعد اس دورے کا اعلان کرتے۔    

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کو پاکستان کی جانب سے مختلف مواقع پر فراہم کی گئی مدد کو بھولنا نہیں چاہیے کیونکہ پاکستان نے سری لنکا کی کئی بار مشکل وقت میں مدد کی ہے۔ 1996 کے ورلڈ کپ کے موقع پر کولمبو میں دھماکے ہونے کے بعد پاکستان نے اپنی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو سری لنکا بھیجا۔ اس کے ساتھ ساتھ آسیان بلاک میں شامل ممالک کو بھی پڑوسی ہونے کے ناتے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔