English

افغان ٹیم نے ٹائیگرز کو بھیگی بلی بنا دیا

چٹاگانگ میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میں افغانستان نے بنگلہ دیش کو 224 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی

PHOTO: AFP

چٹاگانگ: واحد ٹیسٹ میچ میں بلند حوصلہ افغان ٹیم نے بنگال ٹائیگرز کو بھیگی بلی بنادیا جب کہ آخری روز بارش سے ملنے والی مختصر مہلت میں 224 رنز کی بڑی فتح سمیٹ لی۔

چٹاگانگ میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میں افغانستان نے بنگلہ دیش کو 224 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی، یہ اس کی اب تک کی اپنی ٹیسٹ تاریخ کے 3 میچز میں دوسری جبکہ کسی بھی پرانے فل ممبر کے خلاف پہلی کامیابی ہے۔

اس سے قبل افغان ٹیم نے آئرلینڈ کو واحد میچ میں زیر کیا تھا۔ اس تاریخی کامیابی میں راشد خان کی شاندار بولنگ کے ساتھ چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم کے گراؤنڈ اسٹاف اور ڈرینج سسٹم کا بھی اہم ہاتھ ہے جس کی وجہ سے مسلسل ہونے والی بارش کے باوجود افغان ٹیم کو آخری 4 وکٹیں لینے کی مہلت ملی، صبح کو 3 گھنٹے تک کھیل ممکن نہیں ہوسکا، ایک بجے امپائرز نے کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں بلایا مگر دوبارہ بارش شروع ہونے سے مزید 2 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

تیسری مداخلت کے بعد آخر کار امپائرز نے افعان ٹیم کو 18.3 اوورز دیے، اس دوران آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، فائنل سیشن میں ظاہرخان کی پہلی گیند پر شکیب الحسن باہر جاتی ہوئی گیند کو انتہائی غیرذمہ دارانہ انداز میں کھیلنے کی کوشش میں کاٹ بی ہائنڈ ہوگئے، ایسے وقت میں جب صرف ٹائم گزارنا تھا، ایسے شاٹ کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، انھوں نے 44 رنز بنائے، اس کے بعد باقی تینوں وکٹیں راشد خان نے اڑادیں، اس طرح بنگلہ دیشی ٹیم دوسری اننگز میں 173 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

مین آف دی میچ راشد خان نے اننگز میں 6 جبکہ میچ میں 11 وکٹیں لیں۔ اس فتح میں رحمت شاہ نے تاریخی پہلی ٹیسٹ سنچری، اصغر افغان نے 2 ففٹیز جبکہ ابراہم زدران اور ظاہر خان نے حریف سائیڈ کے اہم بیٹسمینوں کو ٹھکانے لگاکر اہم حصہ ڈالا۔

شکست کے بعد بنگلہ دیش میں ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری

افغانستان کے ہاتھوں واحد ٹیسٹ میں شرمناک شکست کے بعد بنگلہ دیش میں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں شروع ہوگئیں، کپتان شکیب الحسن پہلے ہی پچ کو مورد الزام ٹھہرا چکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ وکٹ ہی نہیں تھی جو ہم چاہتے، ان کے اور بورڈ کے صدر نظم الحسن کے الگ الگ موقف سامنے آئے، اتوار کو دونوں نے پریس کانفرنس بھی کرڈالیں۔

نظم کا کہنا تھا کہ کیا میں ان لوگوں کو سمجھاؤں کہ ٹیسٹ کرکٹ کیسے کھیلی جاتی ہے، انھیں کیسے تیاری کرنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان کا گیم پلان ہی درست نہیں تھا، انھوں نے ٹیم سلیکشن پر بھی اعتراض کیا۔

دوسری جانب شکیب کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم ہارتے ہیں تو اس طرح کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں، جب کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس بارے میں بات نہیں ہوتی، ہمیں کم سے کم اس معاملے میں توازن رکھنا چاہیے۔